.

لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی نے استعفی دے دیا

داخلی مسائل استعفی کی وجہ بتائے جاتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ انہوں نے قومی متحدہ حکومت سازی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف داخلی مسائل کی وجہ سے وہ مستعفی ہوئے ہیں۔

نجیب میقاتی نے اپنے استعفی کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’میں اپنی حکومت کے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ میرے اس قدم کے بعد اب بڑے سیاسی دھڑے ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے آگے بڑھیں گے اور ذمہ داری اٹھائیں گے۔‘‘

سرکاری ٹیلی وژن پر براہ راست نشر کی جانے والی تقریر میں میقاتی نے زور دیا کہ لبنان میں ایک ایسی متحدہ حکومت کو تشکیل دینا چاہیے، جس میں تمام سیاسی طاقتوں کو مناسب نمائندگی حاصل ہو تاکہ وہ ایک اجتماعی احساس ذمہ داری کے ساتھ قومی اور علاقائی سطح پر موجود چیلنجز سے نمٹ سکے۔

ستاون سالہ نجیب میقاتی نے ایسے وقت میں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے، جب ہمسایہ ملک شام کا بحران لبنان پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ لبنان میں شامی صدر بشار الاسد کے حامی اور مخالف دھڑوں کے مابین پرتشدد جھڑپیں ہو چکی ہیں جبکہ دمشق نے بیروت کو خبردار کیا ہے کہ وہ شام میں اسلحے کی ترسیل اور جنگجوؤں کا داخلہ بند کر دے۔

قبل ازیں میقاتی کی کابینہ جون میں منعقد ہونے والے انتخابات کی نگرانی کے لیے ایک کمیشن پر اتفاق رائے کرنے میں ناکام ہو گئی تھی۔ متقی چاہتے تھے کہ پولیس سربراہ اشرف ریفی کے عہدے کی مدت میں توسیع کر دی جائے، جو آئندہ ماہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔ تاہم وزراء اس حوالے سے بھی کوئی فیصلہ نہ کر سکے تھے۔

یہ امر اہم ہے کہ لبنانی حکومت میں شیعہ تحریک حزب اللہ اور اس کے حامی اکثریت میں ہیں، جو میقاتی کے متعدد فیصلوں کے خلاف ہیں۔ 2011ء میں وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے والے میقاتی نے انکشاف کیا ہے کہ اس سے قبل بھی انہوں نے دو مرتبہ مستعفی ہونے کا ارادہ کیا تھا تاہم صدر میشال سلیمان نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔

ادھر امریکا میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت لبنان میں ہونی والی پیشرفت کا انتہائی غور سے جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم یقین رکھتے ہیں کہ لبنانی عوام ایک ایسی حکومت کے مستحق ہیں، جو ان کے خواہشات کے مطابق ہو اور لبنان کو استحکام کی طرف لے کر جائے۔‘‘ نولینڈ نے اس تناظر میں حزب اللہ کے کردار پر تحفظات کا اظہار بھی کیا۔