.

دمشق حکومت گولان کی پہاڑیوں پرگولہ باری کی ذمے دار ہے: موشے یالون

اسرائیلی وزیردفاع کی شام کو''گولہ باری'' کا فوری جواب دینے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیردفاع موشے یالون نے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر شام کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کا فوری جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔

العربیہ کے نمائندے نے اتوار کوصہیونی وزیردفاع کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''اسرائیل کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی اور شام کی جانب سے شوٹنگ کا فوری جواب دیا جائے گا اور فائرنگ کے ذریعہ کو خاموش کرایا جائے گا''۔

اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان کے ایک بیان کے مطابق ہفتے کے روز شام کی جانب سے اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں فوج کی گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی تھی۔اس سے معمولی سا نقصان ہوا ہے۔تاہم کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

تین ہفتے قبل بھی شام کی جانب سے فائر کیا گیا ایک گولہ گولان کی پہاڑیوں پر گرا تھالیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔گولان کی پہاڑیوں اور اس کے ساتھ واقع شامی علاقے میں گذشتہ نومبر سے کشیدگی پائی جارہی ہےاور مذکورہ واقعہ سے پہلے بھی شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کے دوران فائر کیے گئے گولے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے پر جاکر گرے تھے۔

اسرائیلی فوج نے ان کے جواب میں شامی علاقے کی جانب براہ راست فائرنگ کی تھی۔واضح رہے کہ تب صہیونی فوج نے 1973ء کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ گولان کی پہاڑیوں سے شامی علاقے کی جانب فائرنگ کی تھی اوراس علاقے میں قریباً تیس سال کے بعد یہ اس کی پہلی فوجی سرگرمی تھی۔

شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی اب اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک واقع علاقے تک پہنچ چکی ہے۔تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شامی فوج کے گولے حادثاتی طور پر اسرائیل کے زیرقبضہ علاقے میں جاکر گرے ہیں۔ورنہ شامی فوج اس وقت اندرون ملک الجھی ہوئی ہے اور اس میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کوئی نیا جنگی محاذ کھول سکے۔

یادرہے کہ اسرائیل نے شام کے تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے گولان کی چوٹیوں پر 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔دونوں ممالک نے 1974ء میں یوم کپور کی جنگ کے بعد فائربندی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔اس کے باوجود دونوں ٹیکنیکل طور پر حالت جنگ میں ہیں۔اسرائیل نے اس علاقے کو 1981ء میں اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اقدام کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں اس وقت بیس ہزار یہودی آبادکار رہ رہے ہیں۔ان میں زیادہ تر انگور کاشت کرتے اور ان سے شراب کشید کرتے ہیں۔ان کے علاوہ اٹھارہ ہزار دروز رہ رہے ہیں جو شامی نژاد ہیں اور اس علاقے کے اصل باشندے ہیں۔