.

عراق مسائل پیدا کرنے والی ایرانی پروازیں روکے: جان کیری

امریکی وزیرخارجہ کی اچانک دورے پر بغداد آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیرخارجہ جان کیری نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوجی سازوسامان لے کر شام جانے والے ایرانی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکے۔

انھوں نے عراق سے یہ مطالبہ اتوار کو غیرعلانیہ دورے پر بغداد آمد کے موقع پر کیا ہے۔جان کیری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''صدر بشارالاسد کی حمایت کرنے والی کوئی بھی چیز مسائل پیدا کرنے والی ہے۔میں نے وزیراعظم (عراق) پر واضح کیا ہے کہ ایران سے آنے والی پروازیں درحقیقت شامی صدرکے اقتدار کو بچانے کے لیے معاون ثابت ہورہی ہیں''۔

انھوں نے وزیراعظم نوری المالکی کو خبردار کیا کہ ''عراق جو کچھ کررہا ہے،واشنگٹن اس کی نگرانی کررہا ہے''۔امریکا کی جانب سے عراق کو یہ پہلی مرتبہ اس طرح کا سخت انتباہ کیا گیا ہے اور اس کو فضائی حدود سے گزر کر شام جانے والی ایرانی پروازوں کی آزادانہ آمدورفت پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ ان پروازوں کے ذریعے شام میں جاری خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے سامان بھیجا جارہا ہے جبکہ امریکا اور اس کے ہم نوا مغربی ممالک یہ الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں کہ ایران ان طیاروں کے ذریعے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان بھیج رہا ہے مگر عراقی حکام نے آنکھیں موندھ رکھی ہیں اور وہ کسی معائنے کے بغیر ان ایرانی طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزر کر شام جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔

عراق نے اکتوبر 2012ء میں ایران کے دو طیارے کو اپنے ہوائی اڈوں پر اتارنے اور ان کے معائنے کی اطلاع دی تھی لیکن دسمبر میں نیویارک ٹائمز میں شائع شدہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایرانی حکام عراقی حکام کو پہلے سے مطلع کردیتے ہیں کہ وہ کون سے طیارے کا معائنہ کریں گے اور کس کا نہیں تاکہ ایران کی جانب سے بھیجا گیا فوجی سازوسامان شام پہنچتا رہے اور عراق پر بھی کوئی حرف نہ آئے مگر اس باہمی مفاہمت کے باوجود ایرانی طیاروں کے معاملے پر عراق کو امریکی عہدے داروں کی تنقید کا سامنا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں اہل تشیع کی بالادستی کی حامل حکومت پر یہ بھی زوردیا ہے کہ وہ ملک کی سنی اقلیت کے تحفظات کو دور کرے جو گذشتہ دسمبر سے حکومت کی معاندانہ پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

جان کیری نے وزیراعظم نوری المالکی پر زوردیا کہ وہ سنی آبادی والے دو بڑے صوبوں میں صوبائی کونسلوں کے انتخابات کو ملتوی کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ان صوبوں میں 20 اپریل کو انتخابات ہونا تھے مگر حکومت نے یہ انتخابات ملتوی کردیے ہیں۔

انھوں نے کہا:'' ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ہر کسی کو اکٹھے ووٹ دینے کا حق ملنا چاہیے''۔ان کے بہ قول اگر عراقی حکومت سنی آبادی والے صوبوں کے تحفظات دور نہیں کرتی تو اس سے القاعدہ اور دوسری جنگجو تنظیموں کو سراٹھانے کا موقع ملے گا۔