.

لبنان میں فرقہ وارانہ بنیاد پراغوا کی وارداتوں میں اضافہ

لبنانی شیعوں اور اہل سنت میں شام میں خانہ جنگی کے بعد کشیدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمال مشرقی علاقے میں فرقہ وارانہ بنیاد پر اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور اہل تشیع اور اہل سنت سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد ایک دوسرے کے افراد کو اغوا کررہے ہیں۔

لبنان کے ایک سکیورٹی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ شمال مشرقی قصبے عرسال سے گذشتہ روز نامعلوم مسلح افراد نے ایک سینتیس سالہ نوجوان حسین کامل جعفر کو اغوا کر لیا تھا۔

اس ذریعے کے مطابق اس واقعہ کے بعد ہرمل اور مشرقی شہر بعلبک سے تعلق رکھنے والے بیسیوں مسلح افراد نے عرسال پر دھاوا بول دیا اوروہاں سے متعدد مکینوں کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے ہیں۔

عرسال کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے قصبے سے اتوار کو آٹھ افراد کو اغوا کیا گیا ہے۔تاہم سکیورٹی ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔اس واقعہ سے سات ماہ قبل اسی علاقے سے اہل تشیع کے ایک قبیلےالمقداد سے تعلق رکھنے والے اغواکاروں نے متعدد غیرملکیوں کو اغوا کر لیا تھا۔ان میں زیادہ تر شامی مہاجر تھے۔

عرسال سنی اکثریت قصبہ ہے اور اس کے مکین شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کی حمایت کررہے ہیں جبکہ ہرمل اور بعلبک کی زیادہ تر آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے۔

لبنان کی سنی جماعت چودہ مارچ تحریک شام کے سنی باغیوں کی حمایت کررہی ہے جبکہ حزب اللہ اور اس کے اتحادی اہل تشیع کے علوی فرقہ سے تعلق رکھنے والے شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں۔