.

اقوام متحدہ میں شامی حزب اختلاف کو نشست دینے کا مطالبہ

شامی قومی اتحاد کے سربراہ نے عرب لیگ میں نشست سنبھال لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے سربراہ احمد معاذ الخطیب نے دوحہ میں منعقدہ عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں شام کی نشست سنبھال لی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی شام کی نشست حزب اختلاف کو دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

احمد معاذ الخطیب نے منگل کو عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں اپنی تندوتیز تقریر میں کہا کہ شام کے مستقبل کا فیصلہ غیرملکی طاقتوں کو نہیں کرنا چاہیے بلکہ شامی عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔انھوں نے اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار حزب اختلاف کو شام کی نشستیں دینے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ''وہ سوال کررہے ہیں کہ شام میں کس کی حکمرانی ہوگی تو اس بات کا فیصلہ غیر ملکی طاقتیں یا کوئی اور ملک نہیں بلکہ شام کے عوام کریں گے''۔انھوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے تحفظ کے لیے پیٹریاٹ میزائل استعمال کرے۔

انھوں نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ انھوں نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے بھی اس ضمن میں بات کی ہے کہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے پیٹریاٹ میزائلوں کے ذریعے باغیوں کے آزاد کرائے گئے شام کے شمالی علاقوں کو تحفظ مہیا کیا جائے گا۔اس پر جان کیری نے کہا کہ اس تجویز کا جائزہ لیا جائے گا۔

معاذ الخطیب نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت پر الزام عاید کیا کہ وہ ملک میں جاری بحران کو حل نہیں کرنا چاہتی ہے۔انھوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ گذشتہ دوسال سے جاری بحران کے خاتمے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی تک معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی جانب کسی فیصلے کے منتظر ہیں۔نیٹو اتحاد لڑائی نہ کرے صرف انسانی جانوں کو بچانے کے لیے اقدامات کرے۔

دوحہ میں ہونے والے عرب لیگ کے اس سربراہ اجلاس کے میزبان امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے تنظیم کے دوسرے لیڈروں سے شامی قومی اتحاد کے وفد کو باضابطہ طور پر شام کی نمائندگی کرنے کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ان کی اس تجویز سے باقی لیڈروں نے بھی اتفاق کیا اور معاذ الخطیب نے شام کی نشست سنبھال لی۔واضح رہے کہ عرب لیگ نے نومبر 2011ء میں شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔

قبل ازیں امیر قطر نے اپنی افتتاحی تقریر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ شام میں جبر وتشدد کی کارروائیوں کو رکوانے کے لیے کردار ادا کرے اور شام میں جاری خونریزی کے ذمے دار عہدے داروں کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں مقدمات چلائے جائیں۔

شامی قومی اتحاد کے سربراہ احمد معاذ الخطیب نے اتوار کو اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن اتحاد نے ان کا استعفیٰ ابھی تک منظور نہیں کیا۔انھوں نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا تھا:''میں قومی اتحاد سے مستعفی ہورہا ہوں تاکہ میں آزادی کے ساتھ کام کرسکوں کیونکہ یہ کسی ادارے کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے نہیں کیا جاسکتا تھا''۔


انھوں نے کہا کہ ''میں نے عظیم شامی عوام اور اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر معاملات سرخ لکیر تک پہنچ گئے تو میں استعفیٰ دے دوں گا''۔انھوں نے لکھا کہ ''گذشتہ دوسال کے دوران ایک ظالم رجیم ہمیں ذبح کرتا رہا ہے لیکن دنیا اس بے مثال قتل عام کو محض دیکھتی ہی رہی ہے''۔احمد معاذ کے اس اعلان سے چند روز قبل ہی شامی قومی اتحاد نے استنبول میں اپنے اجلاس میں غسان ہیتو کو عبوری وزیراعظم منتخب کیا تھا۔