.

بم حملے میں جیش الحر کے کمانڈر کی ٹانگ ضائع ہو گئی

ریاض الاسعد دیر الزور کے خفیہ فیلڈ وزٹ پر تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی جیش الحر کی مشرقی کمان کے سربراہ نے بتایا ہے کہ اپوزیشن پر مشتمل حکومت مخالف جیش الحر کے سربراہ بریگیڈئر ریاض الاسعد گاڑی میں نصب دھماکا خیز مواد کے پھٹنے سے زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکے کے وقت ریاض الاسعد ترک سرحد کے قریب واقع شامی علاقے دیر الزور کے فیلڈ وزٹ پر تھے۔

مشرقی کمان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکے میں ریاض الاسعد کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی ہے۔ ان کا شام سے باہر علاج جاری ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق شامی رہمنا کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

جیش الحر کی کمان نے شامی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ریاض الاسعد پر قاتلانہ حملہ کرایا۔ حکومت دیر الزور کے باسیوں کو سزا دینا چاہتی ہے کیونکہ علاقے میں جیش الحر نے سرکاری فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں۔

دیر الزور میں فوجی انقلاب کونسل کے کمانڈر مھند الطلاع نے بتایا کہ بریگیڈئر ریاض الاسعد دیر الزور گورنری کے خفیہ فیلڈ وزٹ پر تھے۔ فوجی کونسل کو اس دورے کے بارے میں اطلاع نہیں تھی، دھماکے کے بعد جیش الحر کے حکام کو معلوم ہوا کہ دھماکا ریاض الاسعد کی گاڑی میں نصب بم سے کیا گیا۔

مھند الطلاع نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ الاسعد کی دائیں ٹانگ دھماکے میں کٹ گئی ہے۔ مضروب فوجی کمانڈر کو ابتدائی طبی امداد فیلڈ ملٹری ہسپتال میں دی گئی بعد میں ان کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر انہیں ترکی علاج کی غرض سے منتقل کر دیا گیا۔

مھند الطلاع کا کہنا ہے کہ الاسعد کو اپنے دورہ دیر الزور کے بارے میں فوجی انقلاب کونسل کو مطلع کرنا چاہئے تھا تاکہ وہ ان کی حفاظت کے خاطر خواہ انتظامات کر سکتے۔ مھند کے مطابق جیش الحر اپنے اہم رہنماؤں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری فوجی، جیش الحر کے افسروں اور جوانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کی تاک میں رہتے ہیں۔ وہ خود بھی گزشتہ ماہ ایک ایسی ہی بم دھماکے کی کارروائی میں بال بال بچے ہیں۔ گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھا جیش الحر کا ایک جوان شہید ہو گیا اور میں پچھلی نشست پر بیٹھا ہونے کی وجہ سے محفوظ رہا۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے جیس الحر کے میڈیا اور سیاسی کوارڈی نیٹر لوی المقداد نے بتایا کہ شامی فضائیہ کے جہاز دیر الزور کے اس علاقے پر تادیر پروازیں کرتے رہے جہاں پر ریاض الاسعد کی گاڑی میں بم دھماکا ہوا تاکہ اس امر کی یقین دہانی کر سکیں کہ سرکاری ایجنیٹوں کی کارروائی بہ طریق احسن مکمل ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ریاض الاسعد کی گاڑی پر حملہ نصب بارود سے کیا گیا یا پھر یہ ہینڈ گرینڈ کی کارروائی تھی کیونکہ انقلابیوں نے اس وقت تک اپنے کمانڈر کے زخمی ہونے کی خبر عام نہیں کی جب تک انہیں شام سے ترکی علاج کی غرض سے منتقل نہیں کیا گیا تھا۔

ادھر حلب اور مضافاتی علاقوں میں جیش الحر کی کمان کونسل کے سربراہ بریگیڈئر عبدالجبار العکیدی نے ریاض الاسعد پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور شامی فوج کو خبردار کیا ہے کہ اس کارروائی کا بدلا جلد لیا جائے گا۔
»