.

دمشق میں ہوٹل پر مارٹرحملے کے بعد بین الاقوامی عملے کا انخلاء

شام سے اقوام متحدہ کے نصف عملے کی واپسی کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے شام کے دارالحکومت دمشق سے اپنے بین الاقوامی عملے کے سو ارکان میں سے نصف کو واپس بلانے یا دوسرے ممالک میں منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے یہ فیصلہ دمشق میں اپنے عملے کی جائے قیام ہوٹل پرمارٹروں کے حملے کے بعد کیا ہے۔سفارت کاروں نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ دمشق میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی کے دفتر کو بھی بند کردیا جائے گااور اس کے عملہ کو پڑوسی ممالک لبنان یا مصر منتقل کردیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے ایک سفارت کار نے بتایا ہے کہ ''بین الاقوامی سفارتی عملے کو دمشق سے واپس بلانے کا فیصلہ وہاں لاحق خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے کیونکہ وہاں سفارتی مشن کے نزدیک متعدد خودکش بم دھماکے اور حملے ہوچکے ہیں''۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ شام میں خانہ جنگی کےنتیجے میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کے لیے امدادی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے اور اس وقت بیس لاکھ سے زیادہ افراد کو خوراک اور دوسری امدادی اشیاء مہیا کی جارہی ہیں۔خوراک اور امدادی سامان کی تقسیم کا کام اب اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں میں متعین شامی عملہ انجام دے رہا ہے یا پھر شامی انجمن ہلال احمر کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے۔

نصف سفارتی عملے کی شام سے واپسی کے باوجود اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ شام میں فعال رہے گا اور اپنی سرگرمیاں انجام دیتا رہے گا۔

شام کے باغی جنگجوؤں نے مارچ کے اوائل میں گولان کی پہاڑیوں کے ساتھ واقع علاقے سے اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل پندرہ سولہ فلپائنی اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔تاہم انھیں تین روز بعد رہا کردیا گیا تھا۔اس پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے شامی حکومت اور باغیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امن فوجیوں کی آزادانہ نقل وحرکت اور سلامتی کا احترام کریں۔