.

عراقی نائب وزیر اعظم پر لبنانی حزب اللہ سے ساز باز کا الزام

سنی رہنما شدید عوامی نفرت کے جلو میں نوری المالکی سے جا ملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سنی مسلک ڈپٹی وزیر اعظم صالح المطلک پر العراقیہ لسٹ کے ارکان نے الزام عاید کیا ہے کہ انہوں نے حکومت میں واپسی کے لئے اپنے حالیہ دورہ لبنان کے دوران شیعہ تنظیم حزب اللہ سے ڈیل کی ہے۔ اس معاہدے کے تحت صالح المطلک وزیر اعظم نوری المالکی کی حمایت کریں گے اور بدلے میں انہیں دوبارہ حکومت میں شامل کیا جائے گا۔

صالح المطلک کے منگل کے روز نوری المالکی کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں شرکت کے اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ عراقی لسٹ میں شامل تمام ارکان کابینہ نے اس اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا تھا۔

العراقیہ لسٹ کے ایک رکن نے بتایا کہ المطلک کے خلاف شدید عوامی نفرت پائی جاتی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں بشمول کرد الائنس، مقتدی الصدر کی جماعت اپوزیشن کے فیصلوں سے اظہار یکجہتی کر رہی ہے۔ کرد اتحاد اور صدری پارٹی کی کابینہ میں شرکت منجمد ہے۔

اپوزیشن جماعتیں منگل کے روز ہونے والے کابینہ کے اجلاس کی قانونی حیثیت کے بارے میں بھی شاکی ہیں کیونکہ اس میں تین جماعتوں کے ورزاء شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ بہ قول اپوزیشن ایسے میں صالح المطلک کا نوری المالکی کے کیمپ میں جانا بھی کابینہ کے اجلاس کے قانونی کورم کی تکمیل نہیں کر سکتا۔