.

مصری صدر عرب سربراہ اجلاس کے دوران سو گئے

عراقی مندوب کی ''بلند پایہ'' تقریر کے دوران خواب خرگوش کے مزے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتے ہیں نیند موت کی سُولی پر بھی آجاتی ہے۔بسوں یا ٹرینوں میں اکثر مسافروں ، جماعت کے کمروں میں طلبہ اور سرکاری دفاتر میں بعض اہلکاروں کو سونے کی عادت ہوتی ہے لیکن ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی عالمی تنظیم یا ادارے کا سربراہ اجلاس ہو رہا ہو اور اس کے شرکاء میں شامل کسی ملک کے سربراہِ ریاست بالکل بے تعلق ہوکر نیند کے مزے اڑانے لگ جائیں۔

لیکن دوحہ میں منعقدہ عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے دوران اس قسم کا واقعہ رونما ہو گیا ہے۔منگل کو عرب سربراہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں تنظیم کے اہم رکن ملک مصر کے صدر محمد مرسی اور ان کے دائیں بائیں بیٹھے ان کے وفد کے ارکان خواب خرگوش کے مزے لوٹتے پائے گئے ہیں۔

مصری صدر مرسی ،وزیرخارجہ کامل عمر ،صدر کے مشیر برائے خارجہ امور اعصام الحداد اور صدارتی کابینہ کے سربراہ رفاعل الطحطاوی اپنی آنکھیں بند کیے سو رہے تھے۔اس وقت عراق کے نمائندے موسیٰ الخزاعی اجلاس کے شرکاء سے مخاطب تھے۔اب پتا نہیں ان کی تقریر اتنی بور تھی کہ مصری وفد نے اس پر کان دھرنا مناسب نہیں جانا یا ان کے الفاظ کا جادو تھا جو مصری وفد پر اثر کرگیا اور وہ سب گگھو گھوڑے بیچ کر سوگئے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹس پر مصری صدر اور ان کے وفد کے ارکان کے یوں سونے کی تصویر اس وقت زیرگردش ہے۔ان کے مخالف مصری کارکنان اس تصویر کا خوب چرچا کررہے ہیں اور اس کو اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے جمہوری منتخب صدر مرسی کے ایک نئے اسکینڈل کا نام دے رہے ہیں۔

بعض مصریوں نے ٹویٹر پر اس واقعہ پر بڑے دلچسپ اور مضحکہ خیز تبصرے کیے ہیں۔ایک مصری نے لکھا ہے:''مرسی پہلے منتخب سوئے ہوئے سویلین صدر ہیں''۔شیما نامی خاتون نے لکھا:''مرسی ہمیشہ سوئے ہوتے ہیں اور انھیں کچھ فکر نہیں ہوتی''۔

معروف سعودی عالم دین سلمان العودہ نے بھی ٹویٹر پرصدر مرسی کے عرب سربراہ اجلاس میں یوں سونے پر تبصرہ کیا اور لکھا ہے کہ ''میں حیران ہوں صدر مرسی نے اس سے آخری رات کیسے گزاری ہوگی؟سوکر ،عبادت کرتے ہوئے ،اجلاسوں میں یا اپنے خاندان کے ساتھ''۔

بہرکیف یہ تو مصری صدر خود یا ان کے ترجمان ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ اس ہم اجلاس میں خواب خرگوش کے مزے کیوں لوٹ رہے تھے اور ان کی اس سے قبل ایسی کیا سرگرمی رہی تھی کہ انھوں نے بے چارے عراقی مندوب کی تقریر پر نیند کو ترجیح دی ہے۔ویسے صدر مرسی نے اچھا ہی کیا جو اپنی نیند پوری کرلی کیونکہ عرب لیگ کے بیشتر اجلاس نشستند و گفتند و برخواستند کی عملی تعبیر ہوتے ہیں اور عالمی منظرنامے میں یہ کوئی اہمیت و افادیت نہیں رکھتے۔بس یہ ہے کہ عرب لیڈروں کو میل ملاقات کا ایک اچھا موقع ہاتھ آجاتا ہے اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرکے چلے جاتے ہیں۔