.

بشار الاسد شامی بحران کا ہر سیاسی حل تباہ رہے ہیں: خادم الحرمین الشریفین

شاہ عبداللہ کا خطاب ولی عہد نے پڑھ کر سنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ شامی بحران کے علاقائی امن اور استحکام پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بشار الاسد حکومت بحران کے سیاسی حل کی ہر کوشش کو خراب کرنے میں پیش پیش ہے۔

ان خیالات کا اظہار خادم الحرمین الشریفین کے جانب سے سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے دوحہ میں ہونے والے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خادم الحرمین الشریفین نے

بشار الاسد کے مظالم کے شکار شامی عوام کا دفاع کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ کہ شاہ عبداللہ سمجھتے ہیں کہ شامی حکومت اپنے عوام کے خلاف متنوع اسلحہ استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں قتل و غارت گری اور تباہی کا بازار گرم ہے۔ یہ سب بین الاقوامی برادری کی آنکھوں اور کانوں کے سامنے ہو رہا ہے۔

اپنے خطاب میں خادم الحرمین الشریفین نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شامی مسئلے کے سلسلے میں اپنی صفوں میں انتشار کو فی الفور ختم کریں اور اپوزیشن کو مکمل حمایت فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ شامی حکومت کی جانب سے اپنے کارپردازوں کو دیئے جانے والے فوجی ساز و سامان کو بلا روک شامی عوام کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

اپنے خطاب میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے خادم الحرمین الشریفین نے کہا کہ اس اہم معاملے پر بھی اپنی آواز ایک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس معاملے پر بھی اختلافات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں پر بھی زور دیا کہ اپنے حقوق کی بازیابی تک وہ مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب انصاف پر مبنی امن چاہتا ہے۔ انہوں نے کا کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی رکنیت دلوانے میں ہمیں اپنی کوششوں کو مجتمع کرنا چاہئے۔

اس سے قبل اپنے دوحہ سمٹ سے اپنے خطاب میں مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے بھی شامی معاملے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں شامی عوام اور ان کے حقیقی نمائندوں کی امداد کے طریقوں پر غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے مطالبات پر ثابت قدم رہتے ہوئے شامی حکومت سے مذاکرات کے آپشن کی حمایت کرتے ہیں۔ صدر مرسی کا کہنا تھا کہ شام میں جاری لڑائی سے نہ صرف ملک کا اپنا شیرازہ منتشر ہونے کا اندیشہ ہے بلکہ اس کی وجہ سے خود شامی عوام کا مشترکہ طور پر زندگی گزارنا محال نظر آتا ہے۔

دوحہ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے شامی اپوزیشن اتحاد کے مستعفی سربراہ ڈاکٹر احمد معاذ الخطیب نے عرب سربراہوں سے سوال کیا کہ انہیں بتایا جائے کہ شام میں کون حکومت کرے گا؟ انہوں نے تالیوں کی گونج میں اعلان کیا کہ یقیناً شامی عوام ہی ملک میں حکومت کریں گے اور جس طرح چاہیں گے ویسے ہی حکومت کی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عرب لیگ میں شام کی نشست اپوزیشن کو ملنے کے بعد، عالمی ادارے یو این میں بھی شام کی نمائندگی کا حق اپوزیشن اتحاد کی صورت میں عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔

ڈاکٹر الخطیب نے اپنی تقریر میں انکشاف کیا کہ انہون نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے زیر نگین شمالی علاقوں کا دفاع کرنے کے لئے پیٹریاٹ میزائل فراہم کرے۔