.

دوحہ میں شامی حزب اختلاف کے پہلے سفارت خانے کا افتتاح

شامی قومی اتحاد کو عرب لیگ میں نشست دینے کے بعد قطر کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں ملک کی نمائندگی کے بعد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اپنا پہلا سفارت خانہ کھول لیا ہے۔

شامی قومی اتحاد کے سربراہ معاذالخطیب اور قطری وزیرخارجہ خالدالعطیہ نے عرب اور مغربی سفارت کاروں کی موجودگی میں فیتا کاٹ کر سفارت خانے کا افتتاح کیا۔اس موقع پر قطر اور شام کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔

دوحہ میں شام کا سفارت خانہ نومبر 2011ء سے بند تھا۔تب خلیجی ممالک نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کی مخالفین کے خلاف جبروتشدد کی کارروائیوں کے ردعمل میں شام سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔

دوحہ میں شامی حزب اختلاف کے سفارت خانے کا افتتاح عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے ایک روز بعد کیا گیا ہے۔اس اجلاس میں شامی قومی اتحاد کے سربراہ احمد معاذ الخطیب نے شام کی نشست سنبھال لی تھی۔انھوں نے اپنی تندوتیز تقریر میں اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار حزب اختلاف کو شام کی نشستیں دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

درایں اثناء شامی صدر بشارالاسد کے سب سے بڑے حمایتی ملک روس نے عرب لیگ میں شامی قومی اتحاد کو شام کی نشست دینے کی مخالفت کی ہے اور اس فیصلے کو غیر قانونی اور ناقابل دفاع قرار دیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی قومی اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب نے دوحہ میں موقع سے فائدہ اٹھا کر باغی جنگجوؤں کے زیر قبضہ علاقے میں نوفلائی زون کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔بیان میں عرب لیگ پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے شامی باغیوں کو اسلحہ دینے کی حمایت کرکے بحران کے امن بات چیت کے ذریعے سیاسی کے بجائے فوجی حل کی حمایت کی ہے۔

عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں کو اپنے دفاع کے لیے اسلحے سمیت تمام ذرائع مہیا کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔اجلاس میں منظور کردہ ایک قرار داد میں کہا گیا کہ ''عرب سمٹ ہر ریاست کے اس ''حق'' کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ شامی عوام کی مزاحمت اور جیش الحر کی حمایت کے لیے فوجی سازوسامان سمیت ان کے ذاتی دفاع کے لیے ہر طرح کی مدد کریں''۔

واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف ایک عرصے سے عرب ممالک سے اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔باغی جنگجوؤں کے پاس صدر بشارالاسد کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ہتھیار نہیں ہیں اور وہ اب تک ہلکے ہتھیاروں سے ہی شامی فوج کا مقابلہ کرتے چلے آرہے ہیں۔عرب لیگ سے قبل برطانیہ اور فرانس بھی شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کی حمایت کر چکے ہیں۔