.

عرب ریاستوں کو شامی باغیوں کو مسلح کرنے کا حق مل گیا

دوحہ عرب سربراہ اجلاس میں شام سے متعلق قرارداد منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقدہ عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک نے شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں کو اپنے دفاع کے لیے اسلحے سمیت تمام ذرائع مہیا کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

عرب سربراہ اجلاس میں منظور کردہ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ''عرب سمٹ ہر ریاست کے اس ''حق'' کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ شامی عوام کی مزاحمت اور جیش الحر کی حمایت کے لیے فوجی سازوسامان سمیت ذاتی دفاع کے لیے ہر طرح کی مدد کریں''۔

واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف ایک عرصے سے عرب ممالک سے اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ان کے پاس صدر بشارالاسد کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہتھیار نہیں ہیں۔

درایں اثناء سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے شامی بحران کے مشرق وسطیٰ کی علاقائی سکیورٹی کے لیے سنگین مضمرات سے خبردار کیا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں شاہ عبداللہ کا ایک پیغام پڑھ کر سنایا جس میں انھوں نے کہا کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت ملک میں جاری بحران کے سفارتی حل کے لیے کسی بھی کوشش کو ناکامی سے دوچار کررہی ہے۔

عرب لیگ کے اس سربراہ اجلاس میں شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے سربراہ احمد معاذ الخطیب کو امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی دعوت پر شام کی نشست دے دی گئی ہے۔انھوں نے اپنی تقریر میں امریکا سے باغی جنگجؤں کی مدد کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

عرب وزرائے خارجہ نے اسی ہفتے دوحہ میں منعقدہ اجلاس میں شامی حزب اختلاف کو عرب لیگ میں شام کی نشست دینے کی سفارش کی تھی۔ عرب لیگ نے 27نومبر2011ء کو شام کے خلاف مختلف پابندیاں عاید کرنے کی منظوری دی تھی اور اس کی رکنیت معطل کردی تھی۔

عرب لیگ میں شامی قومی اتحاد کو نشست ملنے اور قطر کی جانب سے اس کے صدر بشارالاسد کے خلاف جنگ میں کردار کو سراہنے کو حزب اختلاف کی بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔تاہم اس سے ان کی صفوں میں موجود انتشار کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

احمد معاذ الخطیب کے علاوہ حال ہی میں عبوری حکومت کے منتخب ہونے والے وزیراعظم غسان ہیتو ،دو معروف شامی شخصیات جارج صبرا اور سہیر عطاسی بھی عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس میں شام کے سرکاری پرچم کے بجائے حزب اختلاف کا پرچم لہرایا گیا ہے۔