.

برطرف مصری پراسیکیوٹر جنرل کو بحال کرنے کا حکم

صدر مرسی کا عبدالمجید محمود کی برطرفی کا حکم کالعدم قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اپیل عدالت نے صدر محمد مرسی کے سابق پراسیکیوٹر جنرل عبدالمجید محمود کی برطرفی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور انھیں ان کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

جج ثناء خلیل نے بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ''عدالت صدر کے جج عبدالمجید محمود کو برطرف کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتی ہے اور وزیرانصاف کو حکم دیتی ہے کہ انھیں ان کے عہدے پر بحال کیا جائے''۔

پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے بظاہر ایک طرح سے عدالت کے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی جگہ مقرر ہونے والے پراسیکیوٹر جنرل طلعت ابراہیم آئین کے تحت اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

عبدالمجید محمود نے اپنی برطرفی کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔ان کی بحالی کے فیصلے کے بعد مصری ایوان صدر ایک مرتبہ پھر عدلیہ کے مدمقابل آگیا ہے۔ محمد مرسی نے ایک صدارتی فرمان کے تحت سابق پراسیکیوٹر جنرل کو برطرف کیا تھا۔

انھوں نے اس صدارتی فرمان کے تحت مطلق العنان اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کر لیے تھے اور یہ قرار دیا تھا کہ ان کے احکامات کا عدالت بھی جائزہ نہیں لے سکتی لیکن عدلیہ نے اس فرمان کے بعد صدر مرسی پر اپنے کام میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا۔

مصری صدر کے اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور انھوں نے اس فرمان کوتشدد آمیز ہنگاموں کے بعد واپس لے لیا تھا۔تاہم اس کی بعض شقوں کو دسمبر میں منظور کردہ مصر کے نئے آئین میں سمو لیا گیا تھا۔

مصر کے ایک معروف وکیل خالد ابو بکر کا کہنا ہے کہ عدالت کے مذکورہ فیصلہ پرعمل درآمد کیا جانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک صدارتی فرمان بھی موجود ہے جس کو آئین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔اب اس بحران میں سپریم دستوری عدالت ہی کو کوئی فیصلہ دینا چاہیے۔