.

اردن میں شیطان کے پُجاری طلبہ پر فردِ جُرم عاید

یونیورسٹی طلبہ پر قرآن مجید کی توہین کے الزام میں مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے ایک فوجی پراسیکیوٹر نے یونیورسٹی کے پانچ طلبہ پر قرآن مجید کی توہین کی شہ دینے اور شیطان کی پوجا کرنے کے الزام میں فرد جرم عاید کردی گئی ہے۔

ایک عدالتی اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''اسٹیٹ سکیورٹی عدالت کے پراسیکیوٹر نے آج بدھ کو پانچ طلبہ پر فرقہ واریت پھیلانے کے الزام میں فرد جرم عاید کی ہے''۔

اردن کے قانون کے تحت اگر ان طلبہ کو قصوروار قرار دے دیا جاتا ہے تو انھیں تین سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان طلبہ کو 12مارچ کو اردن کے شمال مشرقی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اردن پر زوردیا تھا کہ ان طلبہ کے خلاف یاتو فرد جرم عاید کی جائے یا انھیں رہا کردیا جائے۔

ایچ آر ڈبلیو نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ان طلبہ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ان پر دوسرے طلبہ نے ان کی گرفتاری سے قبل حملہ بھی کیا تھا۔تنظیم کے مشرق وسطیٰ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایرک گولڈ اسٹین نے اردنی حکام پر زوردیا ہے کہ ان طلبہ کو مزید حملوں سے بچایا جائے۔

یونیورسٹی کے دوسرے طلبہ نے ان گرفتار پانچ طلبہ پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے قرآن مجید کے ایک نسخے کی بے حرمتی کی تھی،اسے نذرآتش کردیا تھا اور اپنی مذہبی رسم ادا کرتے ہوئے قرآن کے نسخے کو بیت الخلاء میں پھینک دیا تھا۔

ان کی اس مبینہ دریدہ دہنی پر ایک سلفی عالم دین نے ان کے قتل کا فتویٰ جاری کردیا تھا جبکہ سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بُک پر ''شیطان کے ان مبینہ پجاریوں'' کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے جبکہ ہیومن رائٹس واچ اردنی حکام پر زوردیا ہے کہ وہ لوگوں کو ان گرفتار طلبہ کے خلاف تشدد آمیز اشتعال انگیزی سے روکے۔