.

شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی مہم میں ڈرامائی طور پر تیزی

امریکا کی سرپرستی میں پڑوسی ممالک سے اسلحے کی ترسیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کی مخالف مشرق وسطیٰ کی علاقائی طاقتوں نے ڈرامائی طور پر امریکا کی سرپرستی میں اسدی فوج سے برسرپیکارباغیوں کو مسلح کرنے کی مہم تیز کردی ہے اور پڑوسی ممالک سے ان کے لیے خفیہ طریقے سے اسلحے کی ترسیل جاری ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اردن ،سعودی عرب ،ترکی اور قطر امریکا اور بعض مغربی حکومتوں کی مشاورت سے بڑے ہی خفیہ انداز میں شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور گذشتہ چار ہفتے کے دوران اس میں بڑی تیزی آئی ہے تاکہ باغی جلد سے جلد دارالحکومت دمشق کو مفتوح کرسکیں اور بشارالاسد کا دھڑن تختہ ہوسکے۔

ایک عرب عہدے دار اور دو فوجی ماہرین کے بیانات کے مطابق اب شامی باغیوں کو اردن کے راستے سے اسلحہ مہیا کیا جارہا ہے کیونکہ امریکا نے ترکی کے راستے سے شام میں اسلحہ پہنچانے پر اعتراض کیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ وہاں سے بھیجا جانے والا اسلحہ شام کے شمالی صوبوں میں برسرپیکار اسلام پسندوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔

شامی باغیوں کو اسلحے کی ترسیل پر نظر رکھنے والے دونوں عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اسلحے اور ہتھیاروں میں کروشیا میں بنی ہوئی ٹینک شکن جدید بندوقیں اور راکٹ بھی شامل ہیں جبکہ باغیوں کے پاس پہلے اس قسم کا اسلحہ موجود نہیں تھا۔اے پی نے خفیہ آپریشن کے پیش نظر اپنے ان ذرائع کی شناخت اور قومیت ظاہر نہیں کی۔

عرب عہدے دار کا کہنا ہے کہ دمشق پر قبضے کے لیے ایک ماسٹر پلان ترتیب دیا گیا ہے اور اس کے پس پشت یہ حکمت عملی کارفرما ہے کہ باغی مختلف محاذوں سے دمشق کی جانب پیش قدمی کریں۔وہ شمال میں ترکی کی جانب سے اورجنوب میں اردن کی جانب سے آگے بڑھیں اور اس طرح دارالحکومت پہنچ کر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ کردیں۔تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔البتہ ان کا صرف یہ کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی مرحلہ وار ہے اور اس پر عمل درآمد میں کئی دن اور ہفتے لگ سکتے ہیں۔

باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں میں تو کئی مہینے قبل پہنچ چکا تھا لیکن انھیں ابھی تک کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج ان کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کر رہی ہے جس کے نتیجے میں انھیں پسپا ہونا پڑتا ہے۔

اب جنوب کی جانب سے اردن سے اسلحے کی ترسیل سے باغی جنگجوؤں کی مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور ایک باغی کمانڈر کا کہنا ہے کہ وہ اردن سے دمشق تک اسلحے کی ترسیل کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔وہ عمان اور دمشق کے درمیان بین الاقوامی شاہراہ پر واقع شہروں ،قصبوں اور دیہات پر قابض ہونے اور انھیں اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف ایک عرصے سے عرب ممالک سے اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔باغی جنگجوؤں کے پاس صدر بشارالاسد کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ہتھیار نہیں ہیں اور وہ اب تک ہلکے ہتھیاروں سے ہی شامی فوج کا مقابلہ کرتے چلے آرہے ہیں۔عرب لیگ نے منگل کو دوحہ میں منعقدہ اپنے سربراہ اجلاس میں شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی منظوری دی تھی اور اس سے قبل برطانیہ اور فرانس بھی شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کی حمایت کر چکے ہیں۔

تاہم امریکا شامی باغیوں کو مسلح کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔امریکی عہدے داروں کا یہ موقف رہا ہے کہ شام میں بھیجے جانے والے ہتھیار باغیوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جو بعد میں ان کے لیے بڑے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔امریکا باغیوں کو پہلے غیر مہلک ہتھیار مہیا کرنے کی تصدیق کرچکا ہے لیکن اب اس کے مشرق وسطیٰ میں اتحادی ممالک نے شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس عمل میں بھی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ ہتھیار اسلامی جنگجوؤں کے ہاتھ نہ لگیں۔


گذشتہ سوموار کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا۔امریکا کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے حالیہ مہینوں کے دوران شامی باغیوں کے لیے ترکی اور بعض عرب ممالک کو اسلحہ مہیا کیا ہے۔

اس رپورٹ میں فضائی ٹریفک کے ڈیٹا ،بے نامی عہدے داروں کے انٹرویوز اور باغی کمانڈروں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوجی سازوسامان اردن ،سعودی عرب اور قطر کے مال بردار طیاروں کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔فوجی طرز کے مال بردار طیارے انقرہ کے نزدیک واقع آئزن بوگا ہوائی اڈے کے علاوہ ترکی کے دوسرے ہوائی اڈوں اور اردن میں اترتے رہے ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ سی آئی اے ایجنٹوں نے عرب ممالک کو اسلحہ کی خریداری میں مدد دی ہے اور کروشیا سے بھاری مقدار میں اسلحہ خرید کیا گیا ہے۔امریکی انٹیلی جنس افسروں نے باغی گروپوں اور ان کے سربراہوں کا تعین کیا تھا کہ ان میں سے کس کو اسلحہ دیا جانا چاہیے اور ترکی نے زیادہ تر اس پروگرام کی نگرانی کی ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سیپری) کے ایک تجزیہ کار ہیو گریفتھس نے اخبار کو بتایا کہ ''ایک اندازے کے مطابق ساڑھے تین ہزار ٹن وزنی فوجی آلات بھیجے گَئے ہوں گے۔ان پروازوں کو بڑے منظم انداز اور خفیہ طریقے سے پہنچایا گیا ہے۔