.

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، یواین آزادانہ رسائی کی منتظر

شام کا عالمی تحقیقات کاروں کو بلا روک ٹوک رسائی دینے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے ابھی تک اقوام متحدہ کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے آزادانہ رسائی دینے سے اتفاق نہیں کیا ہے۔

عالمی سفارت کاروں کے مطابق اقوام متحدہ چاہتی ہے کہ اس کی ٹیم آیندہ ہفتے شام پہنچ کر اپنے کام کا آغاز کردے لیکن عالمی ادارے کا ابھی تک اس ضمن میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ کوئی سمجھوتا طے نہیں پایا ہے اور معائنے کے کام کے شرائط وضوابط طے ہوسکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ شامی حکومت کا اجازت نامہ مشن کے کام کے آغاز کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔اقوام متحدہ کی ٹیم کو شام میں تحقیقات کے لیے آزادانہ رسائی دینے کے بارے میں ابھی تک بات چیت جاری ہے اور اس کے بعد ہی ٹیم بھیجی جا سکے گی۔

شامی حکومت نے اقوام متحدہ سے شمالی صوبے حلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کی درخواست کی تھی۔اس نے باغی جنگجوؤں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ باغیوں نے اس الزام کی تردید کی تھی اور الٹا شامی فوج پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔برطانیہ اور فرانس نے باغیوں کے اس الزام کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے منگل کو سویڈن سے تعلق رکھنے والے سائنس دان ایکے سیل سٹرام کو شام میں تحقیقات کے لیے جانے والی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ وہ عراق میں 1990ء کے عشرے میں سابق صدر صدام حسین کے مبینہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم میں بھی شامل رہے تھے۔شام نے ان کے تقرر کا خیرمقدم کیا تھا۔

بین کی مون شام سے متعدد مرتبہ یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ طبیعات ،کیمیا اور صحت کے ماہرین کو بلا روک ٹوک رسائی دی جائے تا کہ وہ گذشتہ دوسال سے جاری خانہ جنگی کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات کرکے حقائق سامنے لاسکیں۔

عالمی سفارت کاروں کے مطابق اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک ،ترکی اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو معاملے کی نزاکت کے پیش نظر شامل نہیں کیا جائے گا بلکہ لاطینی امریکا ،بعض یورپی اور ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل ہوں گے اور عالمی ادارے کی معائنہ ٹیم میں آٹھ سے دس ارکان شامل ہوں گے۔