.

خالد مشعل چوتھی مرتبہ پولٹ بیورو حماس کے سربراہ بن گئے

فلسطینی رہنما کے اخوان المسلمون سے گہرے روابط ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سیاسی شعبے کے لئے قاہرہ میں ہونے والے انتخاب میں پولٹ بیورو کے حالیہ صدر خالد مشعل کو مزید چار برسوں کے لئے تنظیم کے اہم پالیسی ساز سیاسی شعبے کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔

انتخابی عمل قاہرہ کے ایک مقامی ہوٹل میں سوموار کے روز ہوا۔ ووٹنگ ہال میں موجود ذرائع کے حوالے سے مصری پورٹل 'بوابہ الاہرام' نے بتایا کہ خالد مشعل کو 'شو آف ہینڈ' کے ذریعے سیاسی شعبے کا سربراہ منتخب کرنے کی تجویز کو فلسطین سے حماس کے ایک اہم رہنما نے مسترد کرتے ہوئے خفیہ رائے شماری کا مطالبہ کیا، جس کے نتائج سامنے آنے پر خالد مشعل کامیاب قرار پائے۔

خالد مشعل نے ایک برس اعلان کیا تھا کہ وہ سیاسی شعبے کی چوتھی مرتبہ قیادت نہیں کر سکتے، تاہم آج ہونے والے سیاسی شعبے کے انتخاب میں ان کی شرکت سے ان کے اپنے ہی فیصلے کی رد ہو گئی۔

سیاسی شعبے کی سربراہی کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان خالد مشعل نے قطری دارلحکومت میں ایک برس قبل فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد کیا تھا جس میں دونوں رہنماؤں نے فلسطین میں چھے ماہ کے لئے قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کی وجہ خالد مشعل کو حماس کی قیادت کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خالد مشعل تیرہ برس دمشق میں مقیم رہے، ان پر فلسطینی جماعتوں کے درمیان صلح صفائی کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔ شام میں عوامی انقلاب کی جدوجہد کے آغاز سے انہیں دمشق کو خیرباد کہنا پڑا اور وہ ابتدائی طور پر دوحہ اور پھر عمان میں مقیم رہے ہیں۔

ابو ولید کے اخوان المسلمون کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ یہ تنظیم پر ضرورت کی گھڑی میں حماس کے ساتھ نظر آئی ہے۔ یہ امر اب ایک کھلا راز ہے کہ اخوان، حماس کا اہم مالی ذریعہ ہے۔