.

سابق مصری وزیر خارجہ پر جوتا باری کی کوشش

واقعہ ابو الغیط کی خودنوشت کی رونمائی کے موقع پر پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق نرم گو وزیر خارجہ ابوالغیط پر اپنی خودنوشت 'میری گواہی' کی تقریب رونمائی کے دوران سامعین میں بیٹھے ایک شریک محفل نے جوتا اچھالنے کی کوشش کی تاہم تقریب کے منتظمین اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بروقت مداخلت سے جذباتی شریک محفل جوتا پھینکے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

تقریب کا اہتمام مکتبہ الاسکندریہ نے کیا تھا اور اس میں مشہور لکھاریوں اور دانشوروں کی بڑی تعداد شریک تھی کہ اچانک سامعین میں بیٹھے ایک شریک محفل نے اپنی نشست سے کھڑے ہو کر احتجاج شروع کر دیا۔ نامعلوم احتجاجی سامع نے بلند آواز میں ابوالغیط پر الزام عاید کیا کہ وہ حسنی مبارک کی ان باقیات میں شامل ہیں جنہوں نے مصری انقلاب کی مخالفت کی تھی۔

اسی دوران ناراض شریک محفل نے اپنے جوتے کا تلوا ابو الغیط کی جانب کرتے ہوئے بلند آواز میں کہا کہ مصر کو تیونس مت جانیں۔ انہوں نے ابو الغیط پر الزام لگایا کہ وہ سن 2008ء میں غزہ پر اسرائیلی حملے میں صہیونی ریاست سے تعاون کرتے رہے ہیں۔

اسی دوران مکتبہ الاسکندریہ کی انتظامیہ نے ہال میں موجود سیکیورٹی اہلکاروں کو بلا لیا، جنہوں نے ناراض شریک محفل سے جوتا چھین لیا اور ان ہال سے زبردستی باہر نکال دیا۔ تقریب کچھ توقف کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی۔