.

شام میں العربیہ کے نامہ نگاروں کے سروں کی قیمت 1 کروڑ لیرے مقرر

شامی صدر کی حامی کاروباری شخصیت کی جانب سے انعامی رقم کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کی حامی ایک کاروباری شخصیت نے خانہ جنگی کا شکار ملک میں اپنے فرائض انجام دینے والے العربیہ کے نامہ نگاروں کو پکڑنے والے شخص کو ایک کروڑ لیرے ( قریباً ایک لاکھ اکتالیس سات سو ڈالرز) انعام کے طور پر دینے کا اعلان کیا ہے۔

کویت میں مقیم شامی کاروباری شخصیت فہیم سخر نے شام کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے العربیہ اور الجزیرہ ٹی وی چینلوں کے رپورٹروں کی گرفتاری پر انعام مقرر کیا ہے۔

انھوں نے پروگرام کے میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ان کا میڈیا جھوٹ بول رہا ہے جبکہ ہمارا میڈیا سچا ہے۔میں اس پیغام کو اپنے نام کے ساتھ نشر کررہا ہوں کہ جو کوئی بھی شامی شہری العربیہ اور الجزیرہ سے تعلق رکھنے والے کسی رپورٹر کو پکڑ کر ملک کی سکیورٹی فورسز کے حوالے کرے گا،میں اس کو ایک کروڑ لیرے انعام کے طور پر دوں گا''۔

انھوں نے الزام عاید کیا کہ ''یہ لوگ شامی شہریوں کو اندرون اور بیرون ملک گم راہ کررہے ہیں اور وہ عرب دنیا کے علاوہ پوری دنیا کو بھی جھوٹی رپورٹنگ کی وجہ سے گم راہ کررہے ہیں۔اس کا مقصد شام کے سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے''۔


اس کاروباری شخصیت نے پروگرام کے میزبان سے کہا کہ ''آپ کے پاس میرا نام ،نمبر اور رابطے کی تفصیل موجود ہے''۔گویا ان صاحب کا کہنے کا یہ مطلب تھا کہ اگر ان رپورٹروں میں سے کوئی پکڑا جائے تو مجھ سے انعام کے لیے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ شامی حکومت اور اس کے حامی افراد ماضی میں بھی حکومت مخالفین کے سروں کی قیمت مقرر کرتے رہے ہیں۔وہ غیر ملکی نجی ٹی وی چینلوں پر تو تنقید کررہے ہیں لیکن خود شام کے سرکاری ٹی وی چینل کے بارے میں بول کے نہیں دے رہے جس کے بارے میں حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں رونما ہونے والے واقعات کی جانبدارانہ رپورٹنگ کررہا ہے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر اور مسخ کرکے پیش کررہا ہے۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے اس کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل شامی ٹی وی نے دمشق کے نواح میں واقع بچوں کی ایک نرسری کی ایک حملے میں تباہی کی اطلاع دی تھی اور جیش الحر پر نرسری پر حملے کا الزام عاید کیا تھا لیکن حکومت مخالفین نے اس اطلاع کے بعد اس نرسری کی ویڈیو بنا لی اور اس کو سماجی روابط کی ویب سائٹس پر پوسٹ کردیا تھا۔اس ویڈیو میں شامی فوجی نرسری میں مٹرگشت کررہے تھے اور اس طرح ویڈیو نے سرکاری ٹی وی کے جھوٹ کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑ دیا تھا۔