.

مصر کے ریاستی اداروں میں تقسیم درآئی ہے:وزیرداخلہ

سیاسی تقسیم نے ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے:انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے وزیرداخلہ محمد ابراہیم نے اعتراف کیا ہے کہ صدر محمد مرسی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے سیاسی تقسیم نے ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور اس سے ریاستی ادارے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔

وزیرداخلہ نے ٹیلی ویژن چینل الحیات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی تقسیم مصری عوام کا خاصہ بن چکی ہے اور ریاستی ادارے بھی اس تقسیم سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ''ان کی وزارت بہت ہی مشکل حالات میں کام کررہی ہے لیکن وہ سیاسی جماعتوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھتی ہے''۔وزیرداخلہ کا یہ بیان عدلیہ اور صدارت کے درمیان حالیہ محاذآرائی کے بعد سامنے آیا ہے۔

مصر کی ایک اپیل عدالت نے گذشتہ ہفتے سابق پراسیکیوٹر جنرل عبدالمجید محمود کی برطرفی کے صدارتی حکم کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور انھیں ان کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔اس عدالتی فیصلے کے بعد موجودہ پراسیکیوٹر جنرل طلعت عبداللہ نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا اور ان کے دفتر کا کہنا تھا کہ وہ نئے آئین کے تحت اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

صدر محمد مرسی نے ایک فرمان کے تحت سابق پراسیکیوٹر جنرل کونومبر 2012ء میں برطرف کردیا تھا اور ان کی جگہ طلعت عبداللہ کو نیا پراسیکیوٹر جنرل مقرر کیا تھا۔عبدالمجید محمود نے اپنی برطرفی کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کردی تھی۔ان کی بحالی کے فیصلے کے بعد مصری ایوان صدر ایک مرتبہ پھر عدلیہ کے مدمقابل آچکا ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل طلعت عبداللہ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ وہ اپنے پیش رو کی بحالی سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔انھوں نے کہا کہ عدالت کے کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا اور وہ اس کے خلاف اپیل کے لیے قانونی اقدامات کریں گے لیکن مصری جج صاحبان کے کلب نے طلعت عبداللہ پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے پیش رو کی بحالی سے متعلق عدالتی فیصلے کا احترام کریں اور اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔دوسری صورت میں انھیں عدالتی کارروائی کا سامنا ہوسکتا ہے۔