اردن میں امریکا کی سرپرستی میں شامی باغیوں کی تربیت کا عمل تیز

ماہرین کی ٹینک شکن اسلحہ استعمال کرنے پر توجہ مرکوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا اوراردن کے سکیورٹی اداروں نے مشترکہ طور پر شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی تربیت کا عمل تیز کردیا ہے اور انھیں ٹینک شکن اسلحہ چلانے کی تربیت پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں بدھ کو شائع شدہ ایک رپورٹ میں اردنی اور امریکی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شامی باغیوں کی تربیت کا عمل گذشتہ سال شروع ہوا تھا اور اس میں شام کی جنوبی سرحد کے ساتھ بفرزون کے قیام پر بھی زوردیا جارہا ہے۔

اخبار نے اردن کے سکیورٹی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس وقت باغی فوجیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے تین ہزار افسروں کو تربیت دی جارہی ہے۔پہلے سے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق ان کی یہ تربیت جون کے آخر میں مکمل ہونا تھی لیکن شام کے سرحدی علاقوں میں جیش الحر کی حالیہ کامیابیوں کے پیش نظر ان افسروں کی تربیتی کو اسی ماہ کے آخر تک مکمل کیا جارہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو بفر زون بنانے کا مقصد ان کو شامی فوج کے منحرفین کے لیے محفوظ پناہ گاہوں میں تبدیل کرنا ہے تا کہ وہ آزادانہ ادھر آسکیں۔اس کے علاوہ انسانی امداد کی بھی متاثرین تک آزادانہ رسائی کو یقینی بنانا ہے۔اردن کے ایک تجزیہ کار محمود عرضیاست کا کہنا ہے کہ ''شام کے سرحدی علاقے میں بفر زون کے قیام کے ذریعے ہی تنازعے کو اردن سے دور رکھا جاسکتا ہے''۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ جرمن روزنامے ڈیرسپیگل نے بھی شامی باغیوں کو اردن میں تربیت دینے کی اطلاع دی تھی۔البتہ اس نے تربیت دینے والے امریکی ماہرین کے بارے میں شک کا اظہار کیا تھا کہ آیا وہ نجی فرموں سے تعلق رکھتے ہیں یا فوج سے تعلق رکھتے ہیں۔تاہم ان میں سے بعض مبینہ طور پر فوجی وردیوں میں ملبوس تھے۔اخبار نے لکھا تھا کہ اس فوجی تربیت میں شامی باغیوں کو ٹینک شکن ہتھیار استعمال کرنے پر زیادہ زور دیا جارہا ہے۔

جرمن اخبار کے مطابق اردن کی انٹیلی جنس سروسز شامی جنگجوؤں کو تربیت دینے میں مصروف ہیں اور اس کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ اردن سے تعلق رکھنے والے سلفیوں کو سرحد عبور کرکے شام جانے سے روکا جائے تا کہ وہ وہاں سے واپس آکر اپنے ملک میں کوئی گڑ بڑ نہ کریں۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے جرمن اخبار کی رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا تھا جبکہ فرانس کی وزارت خارجہ اور برطانیہ کی خارجہ اور دفاع کی وزارتوں نے بھی اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا اور اس کے مندرجات کی تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔

برطانوی اخبار گارجین نے بھی اسی ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکی ٹرینر اردن میں شامی باغیوں کو تربیت دے رہے ہیں۔اس تربیتی عمل میں برطانوی اور فرانسیسی انسٹرکٹر بھی شریک ہیں جبکہ مغربی ذرائع ابلاغ سے حالیہ ہفتوں کے دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں کہ امریکا اور بعض مغربی ممالک اردن اور ترکی کے راستے سے شامی باغیوں کو ہلکے ہتھیار مہیا کررہے ہیں اور ان ہتھیاروں کی بدولت ہی انھیں حال ہی میں شامی فوج کے مقابلے میں نمایاں کامیابیاں ملی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں