بشار الاسد نے شامی گورنریوں کی تعداد 14 سے 17 کر دی

چودہ شہروں کے نقشے میں سرکاری کنٹرول کے حوالے سے تبدیلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر کے فوجیوں کی اکثر محاذوں پر پیش قدمی کی وجہ سے بشار الاسد کو بھی اپنے معاملات پر نظر ثانی کرنا پڑ رہی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں جیش الحر کے زیر قبضہ جانے والے ہوائی اڈوں اور فوجی بیسسز کی واپسی میں ناکامی کے بعد شامی حکومت نے اب صرف اپنے زیر نگین علاقوں پر اپنا کنڑول مضبوط بنانے کی پالیسی پر عمل شروع کر رکھا ہے۔ ان علاقوں میں دارلحکومت دمشق خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق شامی حکومت چودہ گورنریوں کے نقشے کو ازسر نو مرتب کرنے جا رہی ہے۔ اس کارروائی میں حکومت ان گورنریوں کی تقسیم سرکاری تسلط کے حوالے سے کر رہی ہے۔ ان میں حلب، حمص اور الحسکہ قابل ذکر گورنریاں ہیں

انہی ذرائع کے مطابق تین نئی گورنریوں کو شامی نقشے میں شامل کیا جائے گا۔ یہ نئی گورنریاں القامشلہ کے علاقے میں تشکیل دی جائیں گی جو الحسکہ سے الگ ہوں گی۔ نیز حلب کے نواحی علاقے کو شہر کے مرکز سے الگ گورنری میں شامل کیا جائے گا۔ البادیہ گورنری تدمر کے علاقے میں قائم کی جائے گی۔

حکومت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اول الذکر نے انقلابیوں کے ہاتھوں سخت فوجی مزاحمت کے بعد درعا میں سرکاری فوجی کمان میں تبدیلیاں کی ہیں۔ اس کوشش کا مقصد جیش الحر کی درعا میں جنوبی بیسسز کی جانب مسلسل پیش قدمی کو روکنا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو دمشق کا دفاع ناممکن ہو سکتا ہے۔

جیش الحر حالیہ لڑائی میں دارلحکومت کے اہم ٹھکانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ سرکاری فوج اسے مختلف طریقوں سے روکنے میں کوشاں ہے۔ جیش الحرکے مطابق سرکاری فوج کے دمشق میں غیر معمولی نقل و حرکت دارلحکومت میں کسی بڑی کارروائی کا پتہ دے رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں