شامی حکومت مستقبل قریب میں دمشق میں بڑے معرکے کو تیار

دمشق میں شامی وزیر دفاع کے قافلے پر حملے کی متضاد اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر کی فوجی کونسل نے بدھ کے روز شامی وزیر دفاع جاسم الفریج کو السیدہ زبیب کے علاقے 'نجھا' میں نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔

وزیر دفاع کے بارے میں ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ہو اس حملے میں زندہ بچے ہیں یا نہیں۔ شام کے اندر جیش الحر کی مشترکہ کمان کونسل کے ترجمان فھد المصری نے 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے کچھ دیر قبل دمشق رابطہ کیا ہے، وہاں ہمارے ذرائع نے وزیر دفاع کے قافلے پر حملے کے بارے میں کسی قسم کی بات نہیں کی۔

تاہم انہوں نے تصدیق کی 'نجھا' کےعلاقے میں شامی فوج کی لاجسٹک سپلائی اتھارٹی کی عمارت پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں پوری عمارت زمین بوس ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ دمشق کے نواح میں قائم لاجسٹک سپلائی کے اسی دفتر سے سرکاری فوج کے دفاتر، حزب اللہ کے گوریلاوں اور اجرتی قاتلوں کو سامان ضرب و حرب تقسیم کیا جاتا ہے۔

شام میں اس وقت تقریبا تمام محاذوں پر سرکاری فوج اور جیش الحر کے درمیان لڑائی جاری ہے تاہم دمشق کا معرکہ سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ جیش الحر نے حالیہ چند دنوں میں دارلحکومت کی متعدد کالونیوں پر اپنے حملے تیز کئے ہیں اورمزید سیکیورٹی حصاروں کو بھی توڑا گیا ہے۔

ادھراپنے طور پر شامی حکومت میڈیا کے ذریعے ایسی خبریں دے رہی ہے کہ دمشق کے معرکے میں بشار الاسد کی حامی فوج مخالفین کے خلاف نئے ٹیکٹیکل طریقہ جنگ استعمال کریں گے جو حکومت کے بہ قول دشمنوں کے چھکے چھڑا دے گی۔

شامی ہیومن رائٹس نیٹ ورک نے دمشق اور اس کے گرد و نواح میں اسی شہریوں کی ہلاکتیں ریکارڈ کی ہیں۔ ان کی بڑی تعداد دمشق اور نواحی علاقوں میں سرکاری فوج کی گولیوں کا نشانہ بنی۔

ملٹری کونسل کے میڈیا سینٹر نے ایک مراسلے میں دعوی کیا ہے کہ جیش الحر نے عدرا شہر کے قریب دمشق کی سینٹرل جیل کے سامنے سرکاری فوج کے ناکے کو ختم کرانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس کارروائی میں کامیابی کے ساتھ جیش الحر نے تین ٹینکوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

حلب میڈیا سینٹر کے مطابق سرکاری فوج نے الجامع الکبیر کے قریبی کالونی 'الشیخ مقصود' پر شدید گولا باری کی ہے۔ سینٹر کے مطابق حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اردگرد شامی فوج اور انقلابیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں