فلسطینی قیدیوں کی اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کا اعلان

صہیونی جیلروں کے مظالم کے باوجود تحریک جاری رکھیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی جیلوں میں چار ہزار سات سو فلسطینی قیدیوں نے ایک ساتھی اسیر میسرہ ابو حمدیہ کی جیل میں ناکافی طبی سہولیات کے باعث انتقال کے خلاف بطور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ ابوحمدیہ گزشتہ روز اسرائیل کی ایشل جیل میں گلے کے سرطان اور اسرائیلی زندان میں ناکافی طبی سہولیات کے باعث وفات پا گئے تھے۔

اسیران کی سپریم کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ" تمام اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران نے بدھ کے روز سے غیر معینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔"

بیان کے مطابق فلسطینی اسیران نے اپنے ساتھی ابو حمدیہ کی جیل میں وفات کے بعد اپنی احتجاجی مہم شروع کی جس کے دوران پچاس قیدیوں کو مختلف اسرائیلی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بننا پڑا۔ قیدیوں کی بھوک ہڑتالی مہم کو کچلنے کے لئے ایشل جیل کے دورغے پیش پیش ہیں۔" قیدیوں نے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیلی جیلروں کے مظالم کے باوجود ہماری تحریک اور بھوک ہڑتال اپنے مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔

اسیران کونسل کے بیان کے مطابق فلسطینی قیدیوں کے حوصلے پست کرنے کی غرض سے اسرائیلی جیلروں نے سرگرم قیدیوں کو قید تنہائی میں ڈال دیا ہے اور متعدد سیلز میں گرم پانی کی سہولت بند کر دی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسیران کی تحریک قیدیوں کے خلاف صہیونی حملوں کے علی الرغم جاری رہے گی، اس وقت مختلف اسرائیلی جیلوں میں دو سو پچپن قیدی موجود ہیں جو حالیہ تاریخ میں ایک ریکارڈ تعداد ہے۔ اسیران کونسل نےعرب اور اسلامی ملکوں سے فلسطینی قیدیوں کی احتجاجی تحریک میں ان کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں