.

اخوان المسلمون جامعہ الازہر کی تحقیر کا سلسلہ بند کرے:عالم دین

طلبہ کے ذہنوں کو زہر آلود کیا جارہا ہے، پرنسپل کو ہٹانے کی مخالفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے مشہور تاریخی علمی مرکز جامعہ الازہر کے ایک عالم دین نے ملک کی سب سے منظم اور بڑی جماعت اخوان المسلمون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جامعہ کی تحقیر اور توہین کاسلسلہ بند کردے۔

جامعہ الازہر کے معروف عالم دین شیخ احمد کریمہ نے یہ بات العربیہ ٹی وی کے پروگرام پینوراما میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے اور ان کا یہ انٹرویو بدھ کی رات نشر کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''جامعہ الازہر کی جس طرح آج بے توقیری اور توہین کی جارہی ہے ،اس طرح تو کبھی فرانس ،برطانیہ ،ترکوں یا ممالیک نے بھی نہیں کی تھی''۔

طلبہ میں زہرخورانی کے واقعہ کے بعد سے اخوان المسلمون اور الازہر کے علماء کے درمیان کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔جامعہ کے قریباً پانچ سو طلبہ زہریلا کھانا کھانے کے بعد بیمار پڑ گئے تھے اور ان میں سے بعض کی حالت غیر ہوگئی تھی۔اس واقعہ کے بعد جامعہ الازہر کے پرنسپل اسامہ العبد کو برطرف کردیا گیا ہے۔

زہرخورانی کے واقعہ کے خلاف الازہر کے طلبہ نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور جامعہ کے سربراہ اور مفتیٔ اعظم مصر احمد الطیب کو بھی برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔شیخ احمد کریمہ کا کہنا تھا کہ انھیں اسامہ العبد کی برطرفی پر افسوس ہے کیونکہ وہ محدود مسائل کے باوجود جامعہ کو چلانے کی کوشش کررہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ طلبہ کا احتجاج محض اس لیے تھا کیونکہ اخوان المسلمون کی قیادت میں حکومت اسامہ العبد پر دباؤ ڈالنا چاہتی تھی حالانکہ وہ گذشتہ سات ماہ سے کسی نائب کی معاونت کے بغیر تنِ تنہا جامعہ کا انتظام وانصرام چلا رہے تھے۔

شیخ کریمہ نے سوال کیا کہ اگر اسامہ العبد کو برطرف کیا جاسکتا ہے تو پھر وزیراعظم ہشام قندیل کے ساتھ بھی تو ایسا ہی معاملہ کیاجانا چاہیے کیونکہ وہ بھی جامعہ الازہر کے امور کے ذمے دار ہیں۔

انھوں نے اخوان المسلمون پر الزام عاید کیا کہ ''وہ زہر خورانی کے واقعہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے''۔ان کے بہ قول ''کشیدہ صورت حال کا طلبہ کے معدوں میں زہر پہنچانے سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق طلبہ کے ذہنوں میں زہر بھرنے سے ہے''۔

انھوں نے اخوان المسلمون پر جامعہ کے طلبہ کو رشوت دینے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ سلفی طلبہ کی سوچ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ہرجمعہ کو طلبہ کو بس میں لاد کران سلفی شیوخ کے پاس لے جایا جاتا ہے جو الازہر پر توہین رسالت کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

عالم دین نے اخوان المسلمون پر الازہر میں ایک ''جنگجو شخص'' کو پلیٹ فارم مہیا کرنے کا بھی الزام عاید کیا اور ان کا کہنا تھا کہ الازہر سینا کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کرانے والے شہداء کو کبھی نہیں بھولے گی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ مصر کو اسرائیل ،فلسطینی تنازعے میں ملوث کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔