.

ادلب میں سرکاری فوج کو تربیت دینے والا ایرانی افسر گرفتار

ماہر نشانچی کو جیش الحر کی ایک بٹالین نے گرفتار کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن پر مشتمل فوج 'جیش الحر' نے ادلب کے مضافات میں تربیت دینے والے ماہر نشانچی افسر کو حراست میں لینے کا دعوی کیا ہے۔ حمید وثوق نامی ایرانی افسر الفوعہ اور کفریا دیہات میں بشار الاسد نواز فوجیوں کو تربیت فراہم کر رہا تھا۔

ادھر علاقے میں جیش الحر کی ایک بٹالین کے کمانڈر نے ادلب کے مغربی ساحلی علاقے میں شامی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ادلب میں جیش الحر کی 'شھداء بٹالین' کے کمانڈر نے ایرانی افسر کی گرفتاری کو 'ہائی ویلیو' ٹارگٹ بتایا ہے جو علاقے میں سرکاری فوج کو نشانہ بازی کی تربیت دینے پر مامور تھا۔

ایرانی قیدی حمید وثوق ترکی کے راستے شامی علاقے میں داخل ہوا۔ انہوں نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بشار الاسد کی صفوں میں مزید ایرانی فوجی موجود ہیں، جو ملک کے مختلف محاذوں پر شامی فوج کے شانہ بشانہ اپوزیشن کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔

جیش الحر کا کہنا ہے ایرانی فوجی کی گرفتاری سے بشار الاسد حکومت کے ان دعووں کی نفی ہو گئی ہے کہ جن میں تواتر کے ساتھ حزب اللہ اور ایرانی فوجیوں کی موجودگی سے انکار کیا جاتا رہا ہے۔