.

اسرائیلی فائرنگ سے شہید فلسطینیوں کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

اسرائیلی قید میں وفات پاجانے والے فلسطینی کی الخلیل میں نمازجنازہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کی جارحیت میں شہید ہونے والے دو فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی جیل میں وفات پاجانے والےادھیڑعمر فلسطینی کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

اسرائیل میں کینسر کے مہلک مرض کے نتیجے میں دم توڑنے والے تریسٹھ سالہ میسرہ ابو حامدیہ کی نماز جنازہ ان کے آبائی شہر الخلیل میں ادا کی گئی ہے۔ان کے جسدخاکی کو کندھا دینے کے لیے ہزاروں فلسطینی موجود تھے۔ابو حامدیہ اقدام قتل کے الزام میں گذشتہ دس سال سے قید کاٹ رہے تھے۔

انھیں 2002ء میں ایک اسرائیلی عدالت نے عمرقید کی سزا سنائی تھی۔وہ گلے کے سرطان میں مبتلا تھے اور منگل کو ایک اسرائیلی اسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔فلسطینی صدر محمود عباس اور دوسرے عہدے داروں نے اسرائیلی حکام پر ان کے علاج میں غفلت برتنے کا الزام عاید کیا ہے۔

فلسطینی تنظیمیں ان کی رہائی کا مطالبہ کرتی چلی آرہی تھی لیکن جیتے جی صہیونیوں نے انھیں رہا نہیں کیا تھا اور اب ان کی میت فلسطینیوں کے سپرد کی ہے۔میسرہ ابو حامدیہ کی موت کی اطلاع ملتے ہی متعدد فلسطینی شہروں میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئےتھے۔

مغربی کنارے کے شہر طولکرم کے نزدیک واقع گاؤں میں رات جھڑپوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کرکے دوفلسطینی نوجوانوں کو شہید کردیا تھا۔فلسطینی سکیورٹی ذرائع کے مطابق سترہ سالہ عمرونصر کو سرمیں گولی لگی تھی۔انیس سالہ نجی بالبیسی کے سینے میں گولی لگی تھی اور اس کی لاش جمعرات کی صبح ملی تھی۔ان دونوں کی نماز جنازہ میں چھے ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی ہے۔اس موقع پر علاقے کی دکانیں، کاروباری اور اسکول بند تھے۔

فلسطینی صدر محمودعباس نے اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو نوجوانوں کی شہادت کے واقعہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے سے امریکا کی امن بات چیت کی بحالی کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کا اس کشیدگی میں ہاتھ ہے اور وہ امریکا اور عالمی برادری کی جانب سے امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچانے کی ذمے دار ہے۔

مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کے ردعمل میں غزہ کی پٹی سے فلسطینی مزاحمت کاروں نے آج علی الصباح جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے ہیں۔اسرائیلی فوج نے اس راکٹ حملے کی تصدیق کی ہے۔تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج نے سلفی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملے کے جواب میں غزہ کی پٹی پر فضائی حملہ کیا ہے جبکہ وزیردفاع موشے یالون نے دھمکی دی ہے کہ ان راکٹ حملوں کا جواب دیا جائے گا۔انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو اسرائیل اس کا سختی سے جواب دے گا۔