.

اسرائیل کے 50 ہزار مصری یہودی قاہرہ میں اربوں کی جائیداد کے 'مالک'

صہیونی ریاست میں سکونت اختیار کرنے والے یہودی امیر اور مؤثر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں مقیم مصری یہودیوں کو اپنے اصل وطن واپسی کی پیشکش کے بعد مصری یہودیوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

مصری یہودی عرب دنیا میں سب سے بڑی کیمونٹی ہے، جس کا اپنے وسیع البنیاد افکار کی وجہ سے معاشرے میں گہرا نفوذ ہے۔ اس وقت اسرائیل میں آباد ان یہودیوں کی تعداد پچاس ہزار بتائی جاتی ہے۔

مصر سے اسرائیل منقتل ہونے والی یہودی خاتون لیوانا زمیر نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سن 1948ء میں مصر میں ایک لاکھ یہودی آباد تھے، جن کی بڑی تعداد قاہرہ، اسکندریہ جیسے بڑے اور پورٹ سعید اور سوئز جیسے نسبتاً چھوٹے شہروں میں آباد تھے۔

لیوانا کا تعلق عرب دنیا کی ایک طاقتور ترین کیمونٹی سے بتایا جاتا ہے۔ مصری یہودی صاحب ثروت اور بڑے کاروباری تھے۔ مصر میں ان کی جائیداد کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔

'العربیہ' کے کیمرے کے سامنے مصری یہودی ایک جگہ پر موجود ہیں، جسے بعد میں انہوں نے مصر کے یہودی خاندانوں کی یادداشتوں پر مبنی چیزوں کا عجائب گھر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کی دوبارہ مصر واپسی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر 'مصری یہودیوں کے بارے میں' کے عنوان سے بننے والی فیچر فلم کے بعد نمایاں حیثیت اختیار کر گیا۔ اس متنازعہ فلم میں مصری یہودیوں کو اسرائیل چھوڑ کر دوربارہ اپنے اصل وطن لوٹنے کی ترغیب دی گئی ہے، تاہم اسرائیل میں سکونت اختیار کرنے والے یہودی اپنی دوبارہ مصر واپسی کے مطالبے کو متنازعہ امر قرار دیتے ہیں۔

ادھر ایک اور مصری یہودی مئیر کوہین کا کہنا ہے کہ "ہمارے یہودی بھائی سنہری دور میں مصر میں آباد رہے ہیں لیکن جمال عبدالناصر نے انہیں دیس نکالا دیا۔"