.

شام:باغی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں 80 فوجی ہلاک ،250 زخمی

سرکاری فوجیوں کی شامی حکومت سےالرقة میں فوری مدد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی قصبے الرقۃ میں باغی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں سترھویں آرمرڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے اسی فوجی ہلاک اور ڈھاِئی سو زخمی ہوگئے ہیں۔شامی فوج کی ایک میڈیکل بٹالین نے وہاں زخمی فوجیوں کے علاج معالجے کے لیے فوری مدد بہم پہنچانے کی اپیل کی ہے۔

میڈیکل بٹالین نے شامی حکومت سے آیندہ چوبیس گھنٹوں میں الرقۃ میں مداخلت کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہاں صورت حال بہت ہی نازک ہے۔ہمارے پاس خوراک ،پانی ،بجلی کچھ بھی موجود نہیں اور طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے زخمی فوجی موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

الرقۃ میں شامی فوج کا اڈا پانچ کلومیٹر علاقے پر محیط ہے اور وہاں اس کی سترھویں آرمرڈ ڈویژن تعینات ہے۔اس وقت اس کا جیش الحر نے چاراطراف سے محاصرہ کررکھا ہے۔اس کے بعد سے شامی فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں یا پیراشوٹس کے ذریعے خوراک پہنچائی جارہی ہے۔باغیوں نے اس اڈے کے قریباً ایک تہائی حصے پر قبضہ کرلیا ہے۔

قبل ازیں بدھ کو جیش الحر نے درعا میں شامی فوج کی انچاسویں بٹالین کے اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔شامی فوجیوں نے شدید جھڑپوں کے بعد اس اڈے کو خالی کرالیا تھا۔اس اڈے پر اسلحہ کا ایک بڑا ڈپو بھی ہے اور شامی فوج اس کو درعا شہر اور نواحی قصبوں پر گولہ باری کے لیے استعمال کرتی رہی ہے جس کے نتیجے میں درعا کے علاوہ دو اور قصبوں علما اور خربۃ غزالہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی اوراس کے نتیجے میں تیس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔