.

الازہر پر حملوں سے مصر کی سلامتی کو نقصان پہنچے گا:مفتیٔ اعظم

الازہر سیاسی تقسیم سے آزاد رہے گا اور سیاسی کھیل میں نہیں الجھے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے مفتیٔ اعظم شوکی ابراہیم عبدالکریم علام نے کہا ہے کہ جامعہ الازہر یا اس کے سربراہ شیخ احمد الطیب پر کسی بھی حملے سے مصر کی سلامتی ہی کو نقصان پہنچے گا۔

شیخ علام نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ الازہر سیاسی تقسیم سے آزاد رہے گا اور وہ ''سیاسی کھیل'' میں نہیں الجھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ادارے کو ہمیشہ ایک ادارہ ہی رہنا چاہیے۔وہ پوری قوم کے لیے وقف ہوتا ہے اور وہ تمام سیاسی دھڑوں کے لیے ہوتا ہے۔

روزنامہ الاہرام کے آن الائن ایڈیشن کی رپورٹ کے مطابق مفتیٔ اعظم نے تمام مصریوں پر زوردیا ہے کہ وہ جامعہ الازہر کو سیاسی امور میں کھینچنے سے گریز کریں کیونکہ اس طریقے سے ہی اس ادارے کی آزادی اور اعتدال پسند اسلام کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شیخ الجامعہ امام احمد الطیب کو زہرخورانی کے واقعہ کے بعد ذمے دار قرار دے کر ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔حزب اختلاف کی بعض قوتوں نے اخوان المسلمون پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ پانچ سو طلبہ کو زہرخورانی کے اسکینڈل کے بعد اس مشہور تاریخی درسگاہ پر کنٹرول کی کوشش کررہی ہے۔

مصر کے صحافی اور سیاسی تجزیہ کار علا ثابت نے لکھا ہے کہ ''اخوان المسلمون کی الازہر پر کنٹرول کی کوششیں طشت ازبام ہوچکی ہیں۔اسلام پسندوں اور اخوان المسلمون کی جانب سے حالیہ حملوں کا مقصد اس تاریخی ادارے کا کنٹرول حاصل کرنا ہے''۔

ان کا کہنا تھا:''الازہر ایک اعتدال پسند اسلامی ادارہ ہے اور اس کی پوری دنیا میں تکریم کی جاتی ہے لیکن اخوان المسلمون اس کو اپنے کنٹرول میں لانا چاہتی ہے''۔

قبل ازیں جامعہ الازہر کے معروف عالم دین شیخ احمد کریمہ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی سب سے منظم اور بڑی جماعت اخوان المسلمون سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جامعہ کی تحقیر اور توہین کاسلسلہ بند کردے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''جامعہ الازہر کی جس طرح آج بے توقیری اور توہین کی جارہی ہے ،اس طرح تو کبھی فرانس ،برطانیہ ،ترکوں یا ممالیک نے بھی نہیں کی تھی''۔