.

دمشق میں مزارات کے تحفظ کے لیے غیر ملکی جنگجو تعینات

شامی حکومت کی حمایت میں لڑنے کے لیے آنے والوں میں پاکستانی بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشار الاسد نے دارالحکومت دمشق میں مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے پڑوسی ممالک سے تعلق رکھنے والے شیعہ جنگجوؤں کو تعینات کردیاہے اور وہ حزب اختلاف کے جنگجوؤں کے مقابلے میں شامی حکومت کو بچانے کے لیے جوق درجوق پہنچ رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شامی فوج کا ہاتھ بٹانے کے لیے عراق ،لبنان ،ایران اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع دمشق آ رہے ہیں اور انھیں ابوالفضل العباس بریگیڈ کے تحت سیدہ زینب کے علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ وہ حجرالاسود اور قابون کے علاقے میں بھی باغی جنگجوؤں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

ابوالفضل العباس بریگیڈ کی ایک فوٹیج بھی منظرعام پر آئی ہے جس میں اس کے جھنڈے تلے جمع کیے گئے غیرملکی جنگجوؤں کو دیکھا جاسکتا ہے۔اس فوٹیج میں یہ جنگجو الجوبر کے علاقے میں موجود ہیں اور انھوں نے شامی فوج کا پرچم تھام رکھا ہے۔سنی باغیوں کی پیش قدمی کے پیش نظر یہ بریگیڈ چند ماہ قبل بنائی گئی تھی۔اس میں شامل جنگجوؤں کی حالیہ ہفتوں کے دوران سیدہ زینب کے مزار اور اس کے آس پاس کے علاقے میں باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں غیرملکی جنگجوؤں کی آمد کا تعلق مفتیٔ اعظم احمد حسون کے ایک فتویٰ سے جوڑا جارہا ہے جس میں انھوں نے خطے کے مسلمانوں پر زوردیا تھا کہ شامی رجیم کی حمایت ان پر فرض ہے۔ان کے اس بیان کے بعد سے ایران ،لبنان ،پاکستان اور عراق سے تعلق رکھنے والے شیعہ جنگجو شام کا رخ کررہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ شامی دارالحکومت میں پاکستانی شیعہ جنگجوؤں کی موجودگی کی بھی اطلاع سامنے آئی ہے۔