.

بزرگ سیاست دان تمام سلام لبنان کے نئے وزیر اعظم نامزد

اہل سنت کے اتحاد اور دروز لیڈر ولید جنبلاط نے حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے معروف سنی سیاسی خانوادے سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرتمام سلام کو نیا وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے اور بیشترارکان پارلیمان نے ان کے نام پر اتفاق کیا ہے۔

ارکان پارلیمان آج جمعہ کو صدر مشعل سلیمان کو وزارت عظمیٰ کے لیے اپنی نامزدگیاں پیش کررہے ہیں۔نامزدگی کا عمل دو دن جاری رہے گا۔حزب اختلاف کے اتحاد چودہ مارچ تحریک نے تمام سلام کی وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے توثیق کردی ہے اور دروز لیڈر ولید جنبلاط نے بھی ان کی حمایت کی ہے۔ان کے علاوہ اسپیکر نبیہ بری کے لبریشن اور ڈیویلپمنٹ بلاک نے بھی ان کے پلڑے میں حمایت ڈال دی ہے۔

سابق وزیراعظم سعد حریری کی قیادت میں حزب اختلاف نے جمعرات کو تمام سلام کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور سابق وزیراعظم فواد سینورا نے کہا تھا کہ وہ اپنی قومی خدمات کے پیش نظر ایک متفقہ انتخاب ہیں۔اس کے بعد ولید جنبلاط نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں ان کی حمایت کی توثیق کردی اور کہا کہ وہ ایک اعتدال پسند آواز ہیں انھوں نے مزاحمت ( حزب اللہ) کے خلاف کبھی کچھ نہیں کہا۔انھوں نے قومی اتحاد کی حکومت کے قیام پر زوردیا اور کہا کہ اس میں تمام سیاسی دھڑوں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔

واضح رہے کہ لبنان کے آئین کے تحت وزیراعظم کاعہدہ اہل سنت کے لیے مختص ہے۔تمام سلام کے والد لبنان کے سابق وزیراعظم رہے تھے اور ان کے دادا خلافت عثمانیہ کے دور میں اہم عہدے پر فائز تھے۔انھوں نے فرانس کے لبنان پر نوآبادی مینڈیٹ کے دوران بھی اس منصب پر فائز رہے تھے۔

لبنان کی وزارت عظمیٰ کا منصب بائیس مارچ کو نجیب میقاتی کے استعفے کے بعد سے خالی ہے۔ وہ پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اپنے ملک میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان کشیدگی کے بعد اچانک مستعفی ہوگئے تھے۔

نجیب میقاتی نے شیعہ تنظیم حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل مارچ آٹھ اتحاد کی حمایت سے حکومت بنائی تھی۔حزب اللہ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہی ہے جبکہ حزب اختلاف مارچ چودہ اتحاد شام کے باغی جنگجوؤں کی حمایت کررہاہے اور اسی حمایت اور مخالفت کی بنا پر لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں دونوں طبقوں سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کے درمیان متعدد مرتبہ تصادم ہوچکے ہیں۔

لبنان کی ایک سو اٹھائیس ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ میں حزب اللہ کی قیادت میں اتحاد کی اکسٹھ نشستیں ہیں اور حزب اختلاف کی ساٹھ نشستیں ہیں۔ان دونوں میں سے کسی کو بھی حکومت بنانے کے لیے بادشاہ گر دروز لیڈر ولید جنبلاط کی حمایت درکار ہوتی ہے جن کی پارلیمان میں سات نشستیں ہیں۔وہ ایک طرف تو شامی حکومت کے سخت مخالف ہیں لیکن دوسری جانب وہ حزب اللہ کے حامی ہیں اور اس کو غیرمسلح کرنے کی ماضی میں کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔