.

"حزب اللہ علاقائی سلامتی کے لئے خطرا ہے"

لبنان کے سنی عالم دین کا 'العربیہ' کے پروگرام میں اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ ایک خطرناک ملیشیا بن چکی ہے جس سے علاقائی سلامتی اور شہری امن کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار لبنان کے ممتاز سنی عالم دین شیخ احمد الاسیر نے 'العربیہ' ٹی وی کے فلیگ شپ پروگرام 'پوائنٹ آف آرڈر' میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ہے۔

سنی مفتی شیخ احمد الاسیر نے العربیہ ٹی وی کو جمع کے ایک پروگرام "پوائنٹ آف آرڈر" میں بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ ایک خطرناک میلشیا بن چکی ہے کہ جس سے خطے کی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ سول امن کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

جنوبی لبنان میں صیدون کی بلال بن رباح مسجد کے پیش امام الاسیر کا کہنا تھا کہ حزب اللہ، ایران نواز جماعت ہے جس کے شر سے لبرل شیعہ کیمونٹی سمیت پورا لبنان بری طرح متاثر ہے

امام احمد الاسیر کے مطابق حزب اللہ اور متعدد سیاستدان لبنان میں سنی مسلک رہنماؤں کو اپنی مرضی کے مطابق وزیر اعظم بنا اور ہٹا کر سنیوں کے ساتھ شکست خوردہ طبقے والا سلوک کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنانیوں پر ایرانی چودھراہٹ دراصل اسرائیلی قبضے سے زیادہ خطرناک ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیلی حملے کے حامی ہیں اور نہ ہی صہیونی ریاست کے خلاف مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے حق میں ہیں۔

علامہ الاسیر نے کہا کہ "ہمیں دفاعی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حزب اللہ ایک مزاحمتی تنظیم تھی مگر اپنا اسلحہ شام اور لبنان میں استعمال کر کے تنظیم نے اپنے اصول بدل لئے۔" انہوں نے کہا کہہ حزب اللہ سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلحے کے زور پر لبنان میں سیاسی معاملات حل کئے جا رہے ہیں۔ "سنی سیاست دان دوسروں کو انتہا پسندی سے سے خوف دلا کر خود کو ایک معتدل متبادل کے طور پیش کر رہے ہیں۔"

ایک سوال کے جواب میں الاسیر نے اس رائے کا اظہار کیا "کہ دفاعی حکمت عملی اس بات کی متقاضی ہے کہ لبنان میں قانونی حکومت کو اپنے اسلحے پر مکمل تصرف ہو۔ میں تمام مذہبی مسالک کے ساتھ ملکر پرامن طور پر رہنا چاہتا ہوں۔ ہم کسی مسلک کے خلاف نہیں، ہمارا مسئلہ صرف اور صرف ایرانی عزائم ہیں۔"