"شامی رجیم کا خاتمہ علاقائی استحکام کے لئے تباہ کن ہو گا"

بشار الاسد کا ترکی پر شامی باغیوں کی مدد کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام کے صدر بشار الاسد نے خبردار کیا ہے کہ ان کے ملک میں انتشار یا ان کی حکومت کا خاتمے سے آنے والے دنوں میں پورے مشرق وسطی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔

بشار الاسد نے ان خیالات کا اظہار ترک نیوز چینل 'الوسال' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا، جو تین دن پہلے ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن اسے نشر جمعہ کی شب کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں شامی رہنما کا کہنا تھا کہ شام دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ممالک میں گھرا ہوا ہے جو بشار الاسد کے بہ قول انہیں شامل میں داخل ہونے کی اجازت دے رہے ہیں۔

انہوں ترکی پر شامی باغیوں کو مدد فراہم کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کیا اردن بین الاقوامی طور پر باغیوں کی حمایت کر رہا ہے؟

شامی صدر نے خبردار کیا: "اگر ان کی حکومت گری اور شام تقسیم ہوا تو اس کے پورے خطے میں تباہ کن اثرات ہوں گے۔ اس عدم استحکام کے آنے والے کئی سال تک علاقائی سیاست پر اثرات مرتب ہوں گے۔"

درایں اثنا بشار الاسد کے قریبی اتحادی روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ شام میں خانہ جنگی 'قتل عام' کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قتل عام کو روکنے کے لئے شامی رہنما کا اقتدار ختم کرنا ضروری نہیں بلکہ اس صورتحال پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے ذریعے قابو پایا جائے۔

روسی رہنما نے ان خیالات کا اظہار جرمن ٹی وی "اے آر ڈی" سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ گفتگو کی ویڈیو کریملن نے گزشتہ روز جاری کی۔ انہوں نے روس کی جانب سے بشار الاسد رجیم کو اسلحہ فراہمی کے ضمن میں کیا جانے والے اعتراضات کو یکسر مسترد کر دیئے۔

پوتن کے مطابق بشار الاسد کو اسلحہ فراہمی کا اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں۔ انہوں نے شامی اپوزیشن کو ملک میں ایک قانونی اور جائز حکومت کے خلاف لڑائی میں مدد اور اسلحہ فراہم کرنے پر شدید تنقید کی۔

مارچ کے اواخر میں عرب لیگ میں شام کی نشست بشار الاسد مخالف اپوزیشن اتحاد کو دینے پر روس نے کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ اقدام 'ناقابل دفاع اور غیر قانونی' ہے۔ اس اقدام پر شام کی جانب سے انتہائی سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں