شامی فوج نے دمشق کے نواح میں توشکا میزائل برسا دیے

میزائل کے ساتھ جوہری اور کیمیائی ہتھیار فائر کیے جا سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی مقامی رابطہ کمیٹیاں کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد کے ماتحت فوج نے زمین سے زمین پر مار کرنے والا میزائل توشکا سے دمشق اور اس کے نواحی علاقوں میں باغیوں پر حملے کیے ہیں۔

کمیٹیوں کی اطلاع کے مطابق صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ سرکاری فوج نے دارالحکومت میں دو مرتبہ اس قسم کے میزائل فائر کیے ہیں۔

شامی فوج نے ہفتے کے روز دمشق کے نواحی علاقے البازرہ پر توشکا میزائل فائر کیا تھا۔اس سے چند روز قبل دارالحکومت کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک پر اس قسم کے ہتھیار سے حملہ کیا گیا تھا۔

توشکا مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے اور اس کو گاڑی کے ذریعے چلانے والی جگہ پر لے جایا جا سکتا ہے۔توشکا میدان جنگ میں لڑنے والے فوجیوں کے استعمال کے لیے بنایا گیا تھا۔

یہ میزائل اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہ اپنے ہدف پر پہینچنے سے صرف سولہ میٹر قبل پھٹ جائے تو بہت ہی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔یہ پانچ سو کلو گرام تک وارہیڈز اپنے ہدف تک لے جاسکتا ہے۔اس کے وار ہیڈز کو کیمیائی اور حیاتیاتی وار ہیڈز سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب میڈیا کی یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے پاس برطانوی ساختہ سنائپر بندوقیں اے ایس 50 موجود ہیں۔یہ وزن میں بہت ہلکی ہیں۔اس بندوق کے پرزوں کو بڑی آسانی سے الگ الگ کیا جاسکتا ہے اور پھر فوری جوڑا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں