عراق میں بعث پارٹی پر پابندی سے متعلق قانون میں اصلاحات متعارف

اہل سنت کے احتجاجی مظاہروں کے بعد نوری المالکی حکومت کا اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

عراق میں اہل سنت کے احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت نے سابق صدر صدام حسین کی جماعت بعث پارٹی کے ارکان پر پابندی سے متعلق قانون میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔

عراقی پارلیمان آج سوموار کو اس قانون میں اصلاحات کے مسودے پر بحث کررہی ہے۔ نئے ترمیم شدہ قانون کے مسودے کے مطابق سابق حکمراں بعث پارٹی کی مقامی شاخوں کے سربراہان سول سروسز میں خدمات انجام دے سکیں گے اور سابق صدر کے وفادار فدائین صدام رضاکار قومی خزانے سے پنشن وصول کرسکیں گے۔اس کے علاوہ جن افراد کو 2013ء کے آخر تک بلیک لسٹ کیا جائے گا،وہ سرکاری ملازمت نہیں کرسکیں گے۔

عراق کے نائب وزیراعظم صالح المطلک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''بعث پارٹی کے ارکان پر پابندی کے قانون سے ملک بہت سے اہل افراد کی خدمات سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہوگیا ہے''۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بعث پارٹی پر پابندی کا قانون اہل سنت کو ہدف بنانے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔اہل سنت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد دسمبر 2012ء کے آخر سے اس قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔وہ اس قانون کے خاتمے کے علاوہ انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون کے خاتمے کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں