قاہرہ میں قبطی کیتھڈرل پر حملہ، مجھ پر حملہ ہے: صدر محمد مرسی

قبطی آرتھوڈکس کیتھڈرل کے باہر جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک، 80 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے صدر محمد مرسی نے دارالحکومت قاہرہ میں قبطی آرتھوڈکس کیتھڈرل کے باہر اتوار کو فرقہ وارانہ بنیاد پر جھڑپوں کی مذمت کی ہے اور ان کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک اور اسی سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا نے صدر مرسی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ صدرمرسی نے قبطی عیسائیوں کے پوپ تواضروس دوم سے ٹیلی فون پر بات کی اور انھیں کہا کہ ''کیتھڈرل پر حملہ میری ذات پر حملہ ہے''۔پوپ نے بھی نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور تمام مصریوں پر زوردیا ہے کہ وہ پُرامن رہیں۔

دارالحکومت قاہرہ کے نواحی علاقے الخصوص میں جمعہ کو فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں چار قبطی عیسائی مارے گئے تھے اور وہاں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جھڑپیں بعض مسیحی لڑکوں کی جانب سے ایک اسلامی دینی ادارے کی دیوار پر تحریریں لکھنے کے ردعمل میں شروع ہوئی تھیں۔عیسائیوں اور مسلمانوں میں خونریز تصادم میں چار قبطی عیسائی اور ایک مسلمان مارا گیا تھا۔مینا نے ان ہلاکتوں کی تعداد چار بتائی ہے۔

مرنے والے چاروں عیسائیوں کی آخری رسومات قاہرہ میں قبطی سینٹ مارک کیتھڈرل میں ادا کی گئیں۔ان میں شرکت کے بعد سیکڑوں عیسائِی قاہرہ کی سڑکوں پر نکل آئے اورانھوں نے کیتھڈرل چرچ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔اس دوران کی مسلمانوں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

مصر کے سرکاری ٹی وی پر عیسائی مظاہرین اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں کی فوٹیج نشر کی گئی ہے اور اس میں پولیس اہلکار متحارب گروہوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینک رہے ہیں۔بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عیسائیوں کی اشتعال انگیز نعرے بازی کی وجہ سے ان کی علاقے کے مسلمان مشتعل ہوگئے تھے اور انھوں نے ان پر پتھراؤ شروع کردیا۔

عیسائیوں کے احتجاجی مظاہرے میں شریک نوجوانوں نے پولیس کی جانب پتھراؤ بھی کیا۔انھوں نے چھے کاروں کے شیشے توڑ دیے اور دو کو آگ لگادی۔اس پر مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور انھوں نے عیسائی مظاہرین پر پتھراؤ شروع کردیا۔

مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی ( مینا) کی اطلاع کے مطابق قبطی چرچ کے ہیڈکوارٹرز میں دعائیہ تقریب کے بعد کئی گھنٹے تک مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور ان میں ایک شخص ہلاک اور چوراسی زخمی ہوگئے ہیں۔بعض مظاہرین نے چرچ پر بھی پتھراؤ کیا اور اس کی جانب پیٹرول بم پھینکے۔مینا نے مرنے والے کا نام مہروز حنا بتایا ہے اور اس کی عمر تیس سال تھی۔زخمیوں میں گیارہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں