مصر: سابق صدارتی امیدواراحمد شفیق کرپشن کے الزامات سے بری

حسنی مبارک کے آخری وزیراعظم کا جلد مصر واپسی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کی ایک فوجداری عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کے دور کے آخری وزیراعظم اور ناکام صدارتی امیدوار احمد شفیق کو بدعنوانیوں کے الزامات سے بری کردیا ہے۔

احمد شفیق پر شہری ہوابازی کے وزیر کی حیثیت میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا لیکن قاہرہ کی فوجداری عدالت نے انھیں عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔وہ 2002ء سے 2011ء تک سول ایوی ایشن کے وزیر رہے تھے۔انھیں سابق صدر نے اپنی حکومت کے خلاف عوامی انقلاب کے آخری دنوں میں 25جنوری 2011ء کو ملک کا وزیراعظم مقرر کیا تھا۔

احمد شفیق اور ان کی وزارت کے دوسرے عہدے داروں پر قومی خزانے سے ڈھائی ارب مصری پونڈ ہتھیانے کا الزام عاید کیا گیا تھا اور انھوں نے مبینہ طور پر قاہرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ڈھانے کا حکم دیا تھا۔

مصر کے پراسیکیوٹر نے 19 فروری کو بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول کو ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے کہا تھا لیکن انٹرپول نے ان کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ یہ سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔

احمد شفیق نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں مصری عدلیہ کے ملک میں سیاسی اتھل کے باوجود آزادی سے کام کرنے کی تعریف کی ہے۔ احمد شفیق گذشتہ سال جون میں موجودہ صدر محمد مرسی کے مقابلے میں صدارتی انتخاب کے حتمی مرحلے میں شکست سے دوچار ہونے کے فوری بعد متحدہ عرب امارات چلے گئے تھے۔اس وقت وہ دبئی میں رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں جلد واپس آئیں گے اور ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دیں گے۔تاہم انھوں نے مصر واپسی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔

وہ مصری فضائیہ کے سابق سربراہ رہے ہیں۔ان کے خلاف سابق صدر حسنی مبارک کے صاحبزادوں علاء اور جمال مبارک کو چالیس ہزار مربع میٹر اراضی غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کے الزام میں بھی تحقیقات کی جاتی رہی ہے۔اس مقدمے میں تفتیشی جج اسامہ السعیدی نے ان کا نام نگرانی اور سفری پابندیوں والی فہرستوں میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے تحت انھیں مصر میں داخلے پر گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ان پر مصر کے پاسپورٹ پر سفر کرنے پر بھی پابندی عاید کردی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں