'النصرہ محاذ شام میں عراقی القاعدہ کی شاخ ہے'

القاعدہ کے رہنما ابوبکر البغدادی کا آڈیو پیغام جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں بشار الاسد کی فوج کے خلاف جنگ میں مصروف 'جہاد' النصرہ محاذ کا تعلق عراقی القاعدہ سے ہے اور وہ شام میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کی خاطر سرکاری فوج سے نبرد آزما ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے رپورٹ کے مطابق عراقی القاعدہ کے رہنما ابو بکر البغدادی نے اس حیران کن امر کا اعلان پہلی مرتبہ منگل کے روز کیا، جس کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان مشتبہ رابطوں کی تصدیق ہو گئی ہے۔

ابو بکر البغدادی نے شامی النصرہ محاذ سے اپنے تعلق کا انکشاف ایک آڈیو پیغام میں کیا، جسے پیر کے روز آن لائن جہادی فورم پر پوسٹ کیا گیا اور اس کی موجودگی کی نشاندہی جہادی گروپوں کی ویب سائٹس کی نگرانی کرنے والے فورم SITE نے کی۔ بہ قول ابوبکر البغدادی: "اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے سامنے اس بات کا اعلان کر دیا جائے کہ شامی النصرہ محاذ عراق کی اسلامی ریاست ہی کا حصہ ہے۔

ماہرین کئی بار اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ النصرہ محاذ کو ہمسایہ ملک عراق میں القاعدہ سے وابستہ باغیوں سے مدد مل رہی ہے۔ یہ تنظیم دمشق اور حلب میں ہلاکت خیز دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے اور اس سے وابستہ جنگجوؤں نے دوسرے باغی بریگیڈیز کے ساتھ مل کر بشار الاسد نواز فوج پر حملوں میں حصہ لیا ہے۔

البغدادی نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم دوسرے گروپوں سے اس شرط پر اتحاد کرنے کو تیار ہے کہ ملک اور عوام کو اللہ کے احکامات کی روشنی میں چلایا جائے گا۔

النصرہ محاذ شام کے طول و عرض میں اپنے بدنام زمانہ خودکش حملوں کی وجہ سے 'مشہور' ہوا، تاہم حالیہ چند دنوں میں یہ ایک حقیقی جنگجو فورس بن کر ملک بھر میں مختلف محاذوں پر 'داد شجاعت' دے رہی ہے۔

شامی النصرہ محاذ کے عراقی القاعدہ سے متشبتہ رابطوں کے پیش نظر امریکا نے گزشتہ برس دسمبر میں تنظیم کو دہشت گرد قرار گروپس کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں