.

خلیجی ملک ایران کے ایٹمی اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں: کویتی ماہر

کویت اسٹرٹیجک اسٹڈی سینٹر کے سربراہ کی العربیہ سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ روز زلزلے کا نشانہ بننے والے 'بوشھر' ایٹمی پلانٹ کی بین الاقوامی تفیتش کاروں کو معائنے کی اجازت نہ دے کر ایران خطے کو کسی نیوکلیئر حادثے کا شکار بنا رہا ہے۔ اس امر کا انکشاف کویت اسٹرٹیجک اسٹڈی سینٹر سے وابستہ ماہر ڈاکٹر سامی الفرج نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔

ڈاکٹر سامی الفرج کا کہنا تھا کہ خلیجی ملکوں اور ایران کے درمیان اعتماد کی فضا نہیں پائی جاتی۔ یہ عدم اطمینان اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے کہ جب تہران، حفاظت کے بین الاقوامی معیار کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھنے پر مصر نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر الفرج کا کہنا تھا کہ ایران سے ہمیں مستقل یہی سننے کو مل رہا ہے کہ انہوں نے 'بوشھر' نیوکلیئر پلانٹ کو محفوظ بنانے کے لئے ضروری تبدیلیاں کر دی ہیں، تاہم تہران کے اس دعوی کی کسی مستند بین الاقوامی تنظیم کے ذریعے تصدیق نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اسی بات پر نازاں ہے کہ اس کے اپنے انجینئرز نے پلانٹ کے تحفظ کو یقینی بنا دیا ہے، تاہم تہران کا ایسا دعوی غیر جانبدار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران حفاظتی انتظامات کی نوعیت کے بارے میں کسی خلیجی ملک کو بتایا گوارا نہیں کرتا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ زلزلے کے بعد لازمی ہے کہ ایران، بوشھر پلانٹ میں کئے جانے والے ہنگامی اقدامات سے خطے کے ہمسایہ ملکوں کو آگاہ کرے۔

سامی الفرج نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی ایٹمی پلانٹ سے کسی قسم کی تابکاری خارج ہوئی تو اس سے خلیجی ممالک متاثر ہوں گے کیونکہ ہوا کا رخ شمال سے جنوب کی جانب ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ملکوں میں خلیجی سمندر کا پانی پینے کے لئے استعمال ہو رہا ہے اور یہ بات طے ہے کہ کسی بھی تابکاری سے خلیج کا ماحول سب سے پہلے متاثر ہو گا۔ نیز اس سے آئل ریفایئنریز بھی متاثر ہوں گی۔ اسی لئے کویت کے امیر الشیخ صباح الاحمد نے خلیجی ملکوں کی سربراہی کانفرنس میں 'بوشھر' ایٹمی پلانٹ کے بارے میں خبردار کیا تھا۔