.

شامی انقلابیوں سے رابطے پر اسرائیلی عرب شہری کے خلاف مقدمہ

اسرائیلی سلامتی کے خلاف کسی کارروائی میں ملوث نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے ایک عرب اقلیتی شہری پر شامی مسلح اپوزیشن کے ساتھ ملکر صدر بشار الاسد کے خلاف جنگ میں شرکت کا الزام عاید کیا ہے۔ حکام کے بہ قول ایسا کرنا ملکی سلامتی کے خلاف جرم ہے۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ مذکورہ جرائم کی روشنی میں تل ابیب کا اپنے کسی شہری کے خلاف کارروائی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس مقدمے میں اسرائیل کے ایک عرب شہری پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی فوجی تربیت حاصل کرنے کے بعد وار زون میں داخل ہوا۔ اس دوران اس نے غیر ملکی ایجنٹوں سے میل جول رکھا، جس کی پاداش میں اسے پندرہ برس قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

داخلی سلامتی سے متعلق اسرائیلی ادارے 'شین بیت' نے ایک بیان میں بتایا کہ 29 سالہ عرب اسرائیلی کو 19 مارچ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ شام سے واپس آ رہا تھا۔ اپنے سفر شام کے دوران اسرائیلی شہری نے مبینہ طور پر مسلح بیس تیار کی جہاں اسے اسلحہ چلانے کی تربیت فراہم کی جاتی رہی ہے۔

'شین بیت' کا دعوی ہے کہ گرفتار عرب اسرائیلی شہری کے دوسرے ساتھیوں کو تعلق 'بین الاقوامی' جہادی تحریک ہے۔ یاد رہے اسرائیل یہ تعبیر القاعدہ اور اس کی اتحادی جماعتوں کے لئے استعمال کرتا ہے۔ شین بیت کے بہ قول اسرائیلی شہری سے شام میں صہیونی فوج اور دیمونہ میں اس کے نیوکلئیر پلانٹ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسرائیلی شہری نے اپنے وکیل کے ذریعے شام میں مسلح اپوزیشن سے میل ملاقات کا اعتراف کیا ہے، تاہم اس نے اس الزام کی صحت سے انکار کیا ہے کہ وہ لوگ جہادی تھے، یا ان کا وجود کسی بھی طرح اسرائیل کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔