.

شام کے النصرۃ محاذ نے عراقی القاعدہ سے تعلق کی تردید کر دی

النصرۃ محاذ کے سربراہ کا ڈاکٹر ایمن الظواہری سے اظہار وفاداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار جنگجو تنظیم النصرۃ محاذ کے سربراہ نے القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ساتھ وفاداری کا اظہار کیا ہے لیکن اپنے گروپ کے عراقی القاعدہ میں ضم ہونے کے دعووں کی تردید کردی ہے۔

ابو محمد الجولانی نے بدھ کو منظرعام پر آنے والے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ''النصرۃ محاذ کے بیٹوں نے شیخ ایمن الظواہری کے ساتھ وفاداری کا عزم کیا ہے''۔انھوں نے کہا کہ عراق میں القاعدہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی جانب سے منگل کو النصرۃ محاذ کے ساتھ انضمام کے حوالے سے اعلان سے قبل ہمارے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔

جولانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ''النصرۃ محاذ اپنا جھنڈا تبدیل نہیں کرے گا۔اگرچہ ہمیں اسلامی ریاست عراق کے جھنڈے پر فخر ہے۔ان لوگوں پر بھی ہمیں فخر جنھوں نے اسے بلند کررکھا ہے اور جنھوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اپنے شامی بھائیوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ النصرۃ محاذ اپنے تشخص سے جڑا رہے گا اور القاعدہ کے ساتھ ہمارے تعلق سے کسی بھی طرح ہماری سیاست پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے''۔

عراق میں القاعدہ نے گذشتہ روز ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ النصرۃ محاذ اس کے نیٹ ورک کا حصہ ہے اور اس کے جنگجو شام میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے لڑرہے ہیں۔

امریکا میں جہادی ویب سائٹس کی نگرانی کرنے والی سروس ''سائٹ'' نے عراقی القاعدہ کے لیڈر ابوبکر البغدادی کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا:''اب عوام کے سامنے اس بات کے اعلان کا وقت آگیا ہے کہ النصرۃ محاذ اسلامی ریاست عراق ہی کی توسیع اور اس کا حصہ ہے''۔

لیکن النصرۃ محاذ نے ایک روز بعد ہی اس تعلق کی تردید کردی ہے۔اس تنظیم نے شامی صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ دوسال سے جاری عوامی احتجاجی تحریک میں اب تک اہم کردار ادا کیا ہے اور اس نے شامی فوج کے مقابلے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی تھی جس کی وجہ سے شام میں اس نے اپنی اچھی شہرت بنا لی تھی۔

بعض مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ عراقی القاعدہ کے النصرۃ محاذ کے ساتھ تعلق سے شام کے اندر اس تنظیم نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ القاعدہ کو مسلم دنیا میں اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا جاتا ہے جبکہ النصرۃ محاذ میں شام سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی شامل ہیں اور اس میں القاعدہ کی طرح بھانت بھانت کی بولیاں بولنے اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے جنگجو شامل نہیں ہیں۔

النصرۃ محاذ نے عراق میں القاعدہ سے ہونے والی غلطیوں سے بھی سبق سیکھا ہے اور وہ اس بات پر اصرار کرتی رہی ہے کہ وہ شامی سکیورٹی فورسز اور سرکاری اداروں ہی کو نشانہ بنا رہی ہے اور اس نے اپنے حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا۔تاہم اس تنظیم کے خودکش بم حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کا بھی جانی اور مالی نقصان ہوتا رہا ہے۔