.

چار حضرات صدر بشارالاسد کی دولت سنبھال رہے ہیں: وکی لیکس

دمشق میں امریکی سفارت خانے کی خفیہ دستاویز میں انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں امریکا کے سربستہ رازوں کو منظرعام پر لاکر تہلکہ مچانے والے ویب سائٹ وکی لیکس نے دمشق میں امریکی سفارت خانے کی ایک خفیہ دستاویز کے حوالے سے یہ نیا انکشاف کیا ہے کہ چار حضرات شامی صدر بشارالاسد کی اندرون اور بیرون ملک دولت کو سنبھال رہے ہیں۔

وکی لیکس کی جانب سے شائع کردہ اس دستاویز میں ان حضرات کے نام زہير سحلول، نبيل الكزبری، محمد مخلوف اور فوازالأخرس بتائے گئے ہیں۔اس دستاویز کے مطابق زہير سحلول شام کی بلیک مارکیٹ کرنسی ایکس چینج میں سب سے طاقتور شخص ہیں۔

حکومت نے انھیں دمشق کے مرکزی بنک میں ایک دفتر دے رکھا تھا جہاں انھیں 2005ء میں شامی پونڈ کی قدر میں کمی کے معاملے کو سلجھانے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔چند ہی ہفتوں میں سحلول نے شامی کرنسی کی قدر میں بیس فی صد تک اضافہ کردیا تھا اور اس سے خود انھوں نے اور شامی حکومت نے بھاری منافع کمایا تھا۔

امریکی دستاویز کے مطابق مسٹر سحلول شامی صدر کی دولت کو سنبھالنے کے ذمے دار ہیں اور ان کے روابط کی بنا پر یہ کام ان کے سپرد کیا گیا تھا کیونکہ وہ اپنے ان روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا میں کہیں بھی اور کسی بھی جگہ چوبیس گھنٹے کے اندر ایک کروڑ ڈالر کی رقم منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

محمد مخلوف بشارالاسد کے رشتے کے ماموں لگتے ہیں۔انھیں امریکی ٹیلی گرام میں ''کرپشن کا شہ دماغ'' (ماسٹر مائنڈ) قرار دیا گیا ہے۔انھوں نے اپنے بیٹے رامی کو شام میں سوریا ٹیل کے نام سے پہلی موبائل فون کمپنی چلانے کے لیے لائسنس جاری کیا تھا۔

نبيل الكزبری کو ''کاغذی شہ'' کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔وہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ان کے مخلوف اور ان کے بیٹے سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔وہ بیرون ملک اپنے کاروباری اور بنک کاری روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے صدر اسد کے اثاثے شام سے باہر منتقل کرتے رہے ہیں۔ان کے متعدد یورپی سیاست دانوں کے ساتھ ذاتی تعلقات بتائے جاتے ہیں اور انھوں نے ان روابطہ کو ماضی میں یورپی سیاستدانوں کے صدر بشارالاسد کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرانے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔

امریکی دستاویز کے مطابق فوازالأخرس صدربشارالاسد کے خسر ہیں۔وہ شام کے کاروباری شعبے میں بہت فعال ہیں اور صدر کے ساتھ اپنے خاندانی مراسم کو اپنا کاروبار اور اثرورسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ان کے بنک کھاتوں اور رقوم کی منتقلی کی سرگرمیوں کا پیچھا کرنے کے بعد یہ افواہیں بھی منظرعام پر آئی تھیں کہ انھوں نے اپنے داماد کی دولت کا بڑا حصہ غائب کر دیا تھا۔