.

شامی فوج کی جنوبی قصبے صنمین میں خونریز کارروائی،61 افراد ہلاک

حکومت مخالف جنگجوؤں پرتوپخانے سے گولہ باری اور مسلح افراد کی فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے جنوبی صوبے درعا کے قصبے صنمین میں صدر بشارالاسد کے مخالفین پر نیا خونیں کریک ڈاؤن کیا ہے اور اس قصبے میں توپخانے سے گولہ باری اور فائرنگ کرکے اکسٹھ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق شامی فوج نے بدھ کو صنمین پر دھاوا بولا تھا اور وہاں گولہ باری اور سمری ٹرائل کے بعد بچوں سمیت دسیوں شہریوں کو ہلاک کردیا ہے۔شام کے سرکاری عہدے داروں اور میڈیا نے اس نئے قتل عام کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

شامی سکیورٹی فورسز اردن کی سرحد کے نزدیک واقع اس قصبے پر کنٹرول کے لیے باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس قصبے میں صورت حال بہت ہی کشیدہ ہے اور فوری طور پر اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہورہا ہے کہ کتنے افراد لڑائی میں مارے گئے ہیں اور کتنے شامی فوج کے ہاتھوں بے گناہی کی موت مرے ہیں۔

انھوں نے اس قصبے کے مکینوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''گذشتہ روز شامی سکیورٹی فورسز اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔اس کے بعد سرکاری فوج نے صنمین پر دھاوا بول دیا تھا اور انھوں نے داخل ہوتے ہی بعض علاقوں میں گولہ باری شروع کردی تھی اور مسلح افراد نے لوگوں کو قتل کرنا شروع کردیا''۔

مکینوں کے بہ قول شامی فوج کی گولہ باری سے متعدد افراد مارے گئے ہیں۔درعا میں حکومت مخالف کارکنان کا کہنا ہے کہ خونریز کریک ڈاؤن میں اکسٹھ افراد مارے گئے ہیں۔اس قصبے کے مکینوں نے فوج کی کارروائی کے بعد ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی ہے جس میں ایک عمارت کے باہر کپڑوں میں لپٹی لاشیں رکھی گئی ہیں۔ان کے چہرے خون آلود ہیں اور ان کی لاشوں پر کمبل ڈالے ہوئے ہیں۔ہر لاش کے اوپر کاغذ کی ایک شیٹ پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا ہے۔بظاہر بعض لاشیں کم سن بچوں کی لگ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ شامی فوج اردن اور دارالحکومت دمشق کے درمیان بین الاقوامی شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہےاور وہ اس شاہراہ پر واقع قصبوں اور شہروں میں باغی جنگجوؤں کے کنٹرول کو ختم کرنے یا انھیں وہاں سے نکال باہر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہی ہے۔