.

فلسطینی وزیراعظم سلام فیاض کی مستعفی ہونے کی پیش کش

مغربی کنارے میں صدر محمود عباس سے حکومتی پالیسی پر اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی وزیراعظم سلام فیاض نے صدر محمود عباس کو مستعفی ہونے کی پیش کش کی ہے۔دو فلسطینی ذرائع نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ سلام فیاض اور صدر محمود عباس کے درمیان حکومتی پالیسی کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

محمود عباس اردن کے دورے پر تھے اور وہ آج جمعرات کو وہاں سے مغربی کنارے میں پہنچنے والے تھے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ وہ اپنے وزیراعظم کا استعفیٰ قبول کر لیں گے یا اس کو مسترد کردیں گے۔

سلام فیاض کے دفتر کی ایک خاتون ترجمان نے ان کے استعفے سے متعلق رپورٹس کی تردید کی ہے لیکن تین فلسطینی عہدے داروں نے ایک اور غیرملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کی مستعفی ہونے کی پیش کش کی تصدیق کی ہے۔اس سے پہلے یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ محمود عباس داخلی سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے سلام فیاض کو برطرف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مذکورہ تینوں فلسطینی ذرائع نے وزیراعظم کی استعفے کی پیش کش کے وقت کے حوالے سے بھی مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ان میں دو کا کہنا تھا کہ انھوں نے گذشتہ ہفتے صدر کو عہدہ چھوڑنے کی پیش کش کی تھی لیکن تیسرے کا کہنا تھا کہ انھوں نے فروری میں مستعفی ہونے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

واضح رہے کہ سلام فیاض 2007ء میں مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم بنے تھے۔انھیں مغربی حکومتوں نے اپنی بھرپور حمایت سے نوازا تھا اور ان کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا رہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے اداروں کی از سر نو تعمیر کریں گے۔

اب ان کے عہدہ چھوڑنے سے مغربی ممالک کے فلسطینی صدر کے ساتھ تعلقات میں رخنہ آسکتا ہے لیکن ان کے محمود عباس کے ساتھ تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔گذشتہ ماہ سلام فیاض نے صدر کی خواہش کے برعکس وزیرخزانہ کا استعفی ٰ منظور کر لیا تھا جس کے بعد دونوں کے تعلقات مزید بگڑ گئے تھے۔