.

مصری صدر کا صحافیوں کے خلاف کیس واپس لینے کا حکم

''قانونی عذرداریاں اظہار رائے کی آزادی کے احترام میں واپس لی جارہی ہیں''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر محمد مرسی نے ایوان صدر کی جانب سے صحافیوں کے خلاف دائر کردہ تمام قانونی درخواستوں کو واپس لینے کا حکم دیا ہے۔

صدارتی ترجمان ایہاب فہمی نے بدھ کو رات گئے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''قانونی عذرداریاں اظہار رائے کی آزادی کے احترام میں واپس لی جارہی ہیں''۔

تاہم اس حکم کا اطلاق صدر مرسی کے حامیوں یا دوسرے افراد کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا کی شخصیات کے خلاف دائرکردہ درخواستوں پر نہیں ہوگا۔معروف طناز باسم یوسف کے خلاف دائرکردہ درخواستیں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ان پر صدر مرسی اور اسلام کی توہین کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے اور پراسیکیوٹر نے گذشتہ ہفتے ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

صدر مرسی کا کہنا رہا ہے کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کا احترام کرتے ہیں۔پریزیڈنسی نے اپنے بیان میں صدر کی جانب سے صحافیوں کو قبل از ٹرائل حراست میں لینے پر پابندی کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ حکم اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آزاد پریس کے حامی ہیں۔

لیکن مصر کو سالانہ گراں بہا امداد دینے والے اس کے اتحادی ملک امریکا نے گذشتہ ہفتے صدر مرسی کی حکومت پر اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کا الزام عاید کیا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مصری حکام حکومت کی توہین کے الزام علیہان پر تو مقدمات چلا رہے ہیں لیکن وہ حکومت مخالف مظاہرین پر حملے کرنے والوں کو نظرانداز کررہے ہیں۔

مصر کے انسانی حقوق کے ایک وکیل جمال عید کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کی جانب سے صحافیوں کے خلاف مقدمات واپس لینے کا حکم آدھا قدم ہے۔پورا قدم یہ ہے کہ ان کی جماعت کے ارکان کو بھی صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی روش سے باز آجانا چاہیے۔

انھوں نے بتایا کہ صدر مرسی کے گذشتہ سال جون میں برسراقتدار آنے کے بعد سے ان کی توہین کے الزام میں صحافیوں کے خلاف چوبیس پچیس کیس دائر کیے گئے ہیں۔ان میں سے صرف تین کیس ایوان صدر کی جانب سے دائَر کیے گئے تھے،باقی ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون یا دوسرے افراد کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں۔

ایوان صدر مصر کے آزاد میڈیا کی جانب سے صدر مرسی اور اخوان المسلمون کے خلاف شائع کردہ مبینہ جعلی خبروں پر بھی کڑی نظر رکھتا ہے۔اسی سال کے اوائل میں مصر کے کثیرالاشاعت روزنامے المصری الیوم نے اطلاع دی تھی کہ اس کے ایڈیٹر کے خلاف ایک خبر کی اشاعت پر پریزیڈینسی کی جانب سے باضابطہ درخواست دائر کی گئی تھی جس کے بعد پراسیکیوٹر کے دفتر نے ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔یہ درخواست محمد مرسی کی نقل وحرکت کے بارے میں مبینہ طور پر غلط خبر شائع کرنے پر دائر کی گئی تھی۔