.

سعودی عرب کا ''پلان بی'' شام میں کیسے تبدیلی کا موجب بن گیا؟

سعودی اور قطری، شامی اپوزیشن کو فوجی امداد مہیا کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب ہمیشہ بہت سے امور سے خاموشی سے نمٹنے کے لیے مشہور رہا ہے۔فطری طور پر وہ کم ہی محاذ آراء ہوتا ہے اور وہ ضرورت سے زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کرتا ہے۔

سعودی حکام اکثر مملکت کی اس پالیسی کا اعادہ کرتے رہتے ہیں کہ دوسرے ممالک کے امور میں مداخلت ان کی پالیسی نہیں ہے۔اس کے بجائے سعودی عرب میں چیزیں بند دروازوں کے پیچھے وقوع پذیر ہوتی ہیں۔بیشتر مرتبہ تو مسائل کو مذاکرات کے ذریعے طے کر لیا جاتا ہے اور سعودیوں کے پاس بات چیت کو نتیجہ خیز بنانے کے ذرائع بھی موجود ہیں۔تاہم ہمیشہ اس طریقے سے معاہدے طے نہیں پاتے ہیں اور ماضی میں بہت سے مواقع پر سعودی عرب مسائل کے فوری تصفیے کے لیے متبادلات کو بروئے کار لایا ہے۔

حال ہی میں منظرعام پر آنے والی غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق شامی صدر بشارالاسد کے حوالے سے سعودی عرب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور یہ اندازے لگائے جارہے ہیں کہ شامی رجیم کا مہینوں میں خاتمہ ممکن ہے۔

ہمارے ایک ذریعے نے متعدد انٹرویوز میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب شامی بحران کے حل کے لیے اپنے منصوبے کی حمایت کے حصول میں غیر علانیہ طور پر ہی سہی،کامیاب رہا ہے اور شامی بحران کے حل کے لیے کوششوں میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے حال ہی میں اپنے بھتیجے شہزادہ بندر بن سلطان انٹیلی جنس سربراہ مقرر کیے جانے کے بعد تیزی آئی ہے۔

اس ذریعے نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ''شہزادہ بندر کے تقرر کے بعد سے شامی باغیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کی اسدی فوج کے مقابلے میں کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور وہ اب زیادہ منظم اور بہتر انداز میں شامی فوج سے برسرپیکار ہیں کیونکہ بہتر بین الاقوامی روابط اور صورت حال کے انتظام کی وجہ سے اب انھیں زیادہ جدید اسلحہ مہیا ہورہا ہے''۔



ثابت شدہ ٹریک ریکارڈ؟

سعودی عرب نظریاتی طور پر محدود اور عدم تسلسل کی پالیسی کی شہرت کا حامل ہونے کے باوجود یہ بھی ثابت کرچکا ہے کہ جب وہ عالمی امور میں مداخلت کا انتخاب کر لیتا ہے تو وہ سب سے موثر کھلاڑی ثابت ہوتا ہے۔

اس نے افغانستان پر سابق سوویت یونین کے قبضے اور کویت پر عراق کی چڑھائی ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ان تینوں مثالوں میں کامیابیوں کی ایک بڑی وجہ سعودی عرب کا امریکا کے ساتھ قریبی تعاون رہا ہے۔

اگر شام میں جاری بحران کی بات کی جائے تو سعودی عرب نے سب سے پہلے تو شامی فوج کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام پر چپ کا روزہ توڑا۔مارچ 2011ء سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے خانہ جنگی کی شکل اختیار کرنے کے بعد سعودی عرب نے شام کے خلاف سخت موقف اپنایا تھا اور اس نے دمشق میں متعین اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔خود شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے شام میں جاری خونریزی کے خلاف سخت بیانات جاری کیے۔

جب یہ بات واضح ہوگئی کہ ایران اور روس کی مدد سے بشارالاسد اپنے ہی عوام کے خلاف مسلط کردہ جنگ جیتنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں تو پھر سعودی عرب نے ''منصوبہ بی'' ترتیب دینے کا فیصلہ کیا۔

مذکورہ ذریعے نے العربیہ کو بتایا کہ ''شامی حزب اختلاف کو لاجسٹیکل اور فوجی اسپورٹ کا زیادہ تر کام قطر کررہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سعودیوں اور قطریوں کے درمیان اس ضمن میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت سعودی عرب نے شامیوں کو فوجی امداد دینے کی ذمے داری قطر کے سپرد کردی تھی اور اب اس کا کردار بس بل ادا کرنے تک ہی محدود ہے''۔

مارچ 2012ء میں شام میں جاری بحران کے ایک سال کے بعد سعودی اور قطری انتظام کو بہت تھوڑی کامیابی ملی تھی۔اس وقت تک پچاس ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی تھیں اور ہزاروں ،لاکھوں شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں دربدر تھے۔

اس مرحلے پر سعودی اور قطری دونوں ہی سمجھتے تھے کہ اگر صورت حال کو زیادہ تیزی سے کنٹرول نہ کیا گیا تو پھر نہ صرف بچانے کے لیے بہت تھوڑے شامی رہ جائیں گے بلکہ ایران اپنی علاقائی بالادستی قائم کرنے کے لیے ایک قدم اور آگے بڑھ جائے گا۔چنانچہ ایران کا توڑ کرنے کے لیے پلان بی ترتیب دیا گیا۔

ایران کے ساتھ ایشو

بعض مستشرقین کے صورت حال کے تجزیہ کے برعکس ایران کی جانب سے خطے میں بالادستی قائم کرنے کی کوششوں کا سدباب محض اس وجہ سے نہیں کیا جارہا ہے کہ وہ ایک شیعہ ریاست ہے اور سعودی عرب ایک سنی مملکت ہے۔

تاہم اب ایک خیال یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سعودی عرب بشارالاسد کے خلاف اس لیے بھی بروئے کار ہے کیونکہ وہ علوی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ شام کی آبادی کی اکثریت اہل سنت پر مشتمل ہے لیکن اس رائے کو مضحکہ خیز ہی قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ شام میں گذشتہ بیالیس سال سے اسی علوی خاندان کی حکومت ہے۔

اس لیے اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ سعودی عرب محض اس لیے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے کہ وہ علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں تو وہ دراصل یہ کہنا چاہ رہا ہے سعودیوں کو اسد خاندان کے مذہبی پس منظر کا اندازہ کرنے میں چار عشرے کا وقت لگ گیا ہے حالانکہ اسدی حکومت کے ساتھ سعودیوں کے اچھے تعلقات استوار رہے ہیں اور موجودہ صدر بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کے زمانے میں تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات زیادہ بہتر تھے۔

اس سعودی ذریعے نے العربیہ کو بتایا کہ ''حافظ الاسد شاذ ہی ہاں کہتے تھے لیکن جب وہ ہاں کہتے تھے تو اس کا یہی مطلب ہوتا تھا لیکن اس کے مقابلے میں بشارالاسد جب ہاں کہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کیونکہ وہ سیاسی طور پر ناپختہ اور ایک جھوٹے شخص ہیں۔انھوں نے جب اقتدار سنبھالا تو انھیں سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل تھی لیکن فروری 2005ء میں بیروت میں سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے بہیمانہ قتل کے بعد وہ اس حمایت سے محروم ہوتے چلے گئے۔

مقتول رفیق حریری ایک اعتدال پسند سنی لیڈر تھے اور انھیں سعودی عرب کی مکمل حاصل رہی تھی۔وہ 1989ء میں سعودی عرب کے شہر طائف میں طے پائے معاہدے کے تحت برسراقتدار آئے تھے۔اس معاہدے کے نتیجے میں ہی لبنان میں پندرہ سال سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔معاہدہ طائف کے تحت شام لبنان کی سکیورٹی کا ذمے دار تھا لیکن جب بیروت میں کار بم دھماکے میں رفیق حریری کی ہلاکت کا واقعہ رونما ہوا تو شام کے علاوہ ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کی جانب ہی انگلیاں اٹھائی گئی تھیں اور انھیں رفیق حریری قتل کیس کا ذمے دار ٹھہرایا گیا تھا۔

رفیق حریری کے قتل سے قبل حزب اللہ کو شیعہ تنظیم ہونے کے باوجود ملک کے تمام سیاسی طبقوں اور جماعتوں کی حمایت حاصل تھی اور اسے تب تک اسرائیلی قبضے کی مزاحمت کرنے والی ایک تنظیم ہی خیال کیا جاتا تھا لیکن بعد میں اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا جانے لگا۔اسی ہفتے بحرینی پارلیمان نے بھی حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔