.

عراق میں دو مساجد کے باہر بم دھماکے، 7 افراد ہلاک، 35 زخمی

شمال مشرقی شہر بعقوبہ میں نماز جمعہ کے بعد عراقیوں پر بم حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد سے شمال میں واقع شہر بعقوبہ میں دو مساجد کے نزدیک تین بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق بعقوبہ کے نزدیک واقع علاقے کنعان میں جامع مسجد عمر بن عبدالعزیز کے باہر نمازجمعہ کے بعد یکے بعد دیگرے دو بم دھماکے سے پھٹ گئے۔بم سڑک کے کنارے نصب کیے گئے تھے اور ان سے مسجد سے گھروں کو واپس جانے والے نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پولیس حکام نے ان دونوں بم دھماکوں میں سات افراد کی ہلاکت اور تیس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔بعقوبہ سے دس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع علاقے صدا میں ایک اور مسجد کے باہر نماز جمعہ کے بعد تیسرا بم دھماکا ہوا جس میں پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ عراق کے مختلف شہروں میں اس سال کے آغاز سے نماز جمعہ کے بعد بم دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔عراق میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم پر اہل تشیع اور سکیورٹی فورسز پرخودکش بم حملوں اور بم دھماکوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے لیکن آج دونوں مقامات پر اہل سنت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے ان بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

گذشتہ ماہ عراق میں تشدد کے واقعات میں دوسو اکہتر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر بغداد اور دوسرے شہروں میں بم دھماکوں میں مارے گئے تھے۔ سال 2011ء کے آخر میں عراق سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد ایک ماہ میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔قبل ازیں گذشتہ اگست میں کم وبیش اتنی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔