.

زخمی مصری مظاہرین کی فوجی اسپتال میں بے ہوش کیے بغیرسرجری

سرکاری رپورٹ میں سنئیرافسروں اور طبی عملے کے زخمیوں پر تشدد کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج نے گذشتہ سال مئی میں قاہرہ میں اس وقت مسلح افواج کی سپریم کونسل کی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیوں کے دوران زخمی ہونے والے مظاہرین کو بے ہوش کیے بغیر آپریشن کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس بات کا انکشاف جمعہ کو برطانوی اخبار گارجین میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مئی 2012ء میں قاہرہ کے عباسیہ چوک میں فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے مظاہرین کے ایک عسکری اسپتال میں علاج کے دوران فوج کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ 2011ء کے اوائل میں سابق صدر حسنی مبارک اور اس کے بعد فوجی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں زخمی ہونے والے مصریوں سے فوجی اسپتال کے اندر بھی ناروا سلوک کیا جاتا رہا تھا اور وہاں آنے والے مظاہرین پر طبی عملہ اور فوجی حملے کرتے رہے تھے۔

صدر محمد مرسی نے مظاہرین پر تشدد اور ان سے ناروا سلوک کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا تھا۔اس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک سنئیر فوجی ڈاکٹر نے اپنے ماتحت ڈاکٹروں کو ہدایت کررکھی تھی کہ وہ زخمی مظاہرین کی بے ہوش کیے بغیر سرجری کریں۔اس کے علاوہ بعض ڈاکٹروں ،نرسوں اور سنئیر افسروں نے زخمی مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک سنئیر افسر نے فوجیوں کو مظاہرین کو ایک تہہ خانے میں بند کرنے کا حکم دیا تھا۔اس رپورٹ میں ان تمام واقعات کی فوجی قیادت کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی سفارش کی گئی تھی۔

قبل ازیں اس تحقیقاتی رپورٹ کے منظرعام پر آنے والے مندرجات میں فوج پر سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو غائب کرنے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آئے تھے۔تاہم ابھی تک یہ رپورٹ سرکاری طور پر شائع نہیں کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی مصر میں ڈائریکٹر ہبہ معریف کا کہنا ہے کہ ''میں اس رپورٹ کی اہمیت کا غلط اندازہ نہیں لگا سکتی ہوں۔یہ بہت ہی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ آج تک فوج یا پولیس کی جانب سے طاقت کے بے مہابا استعمال کا سرکاری طور پر اعتراف نہیں کیا گیا تھا۔مصری فوج ہمیشہ یہ کہتی رہی تھی کہ وہ مظاہرین کے ساتھ تھی اور اس نے ان پر کوئی گولی نہیں چلائی تھی لیکن اس رپورٹ میں پہلی مرتبہ فوج پر مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنانے،انھیں قتل کرنے اور انھیں غائب کرنے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں''۔