.

اسرائیلی توپخانے کی شامی گولان پر گولا باری

حملہ اسرائیلی فوجیوں پر شام سے فائرنگ کا جواب تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی توپخانے نے گولان کی پہاڑیوں میں اپنے فوجیوں پر فائرنگ اور راکٹ حملوں کے بعد شامی علاقے کو جوابی گولا باری کا نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ "جمعہ کے روز شام اور اسرائیل کے درمیان سرحدی باڑ پر تعینات صہیونی فوجیوں پر توپچانے سے شیل فائر کئے گئے ہیں۔"

"حملے میں کسی قسم کا جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوج نے شام میں گولا باری کے مقام کو اپنی جوابی کارروائی کا نشانہ بنایا۔"

بیان میں مزید کہا گیا ہے شامی علاقے سے اسرائیلی فوجیوں کو براہ فائرنگ سے ٹارگٹ کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی اطلاع فوری طور پر اقوامِ متحدہ کو کر دی تھی۔

اسی مہینے کے آغاز میں اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعالون نے خبردار کیا تھا کہ شام سے گولان کے علاقے میں مارٹرشیل حملے اور چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کے بعد ان کا ملک اسرائیل پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے میں دیر نہیں لگائے گا۔

یاد رہے کہ اسی ماہ کے آغازمیں اسرائیل کے وزیرِ دفاع موشے یعلون نے حال ہی میں گولان کی پہاڑیوں پر شام کی طرف سے مارٹر اور فائرنگ کا حوالہ دے کر اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے علاقے پر کسی بھی حملے کا جواب دے گا۔

موشے یعالون کے مطابق ان کا ملک اپنے فوجیوں اور عام شہریوں پر وقتا فوقتا فائرنگ کے واقعات کو معمول نہیں بننے دے گا۔

دو برس سے جاری شامی خانہ جنگی کے بعد حالیہ چند مہینوں میں گولان کے علاقے پر فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شام میں فائرنگ کے مقامات کو نشانہ بنا کر اسرائیلی فوج جوابی کارروائی کرتی ہے۔

اسرائیل کو تشویش ہے کہ بشار الاسد کے خلاف سرگرم باغیوں میں شامل جہادی عناصر تل ابیب پر حملہ کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے تل ابیب شام کے ساتھ اپنی جنگ بندی لائن کی کڑی نگرانی کر رہا ہے۔

اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں پر 67ء کی چھے روزہ جنگ میں قبضہ کر لیا تھا جسے بعد میں 1981ء میں اسرائیلی ریاست میں ضم کر دیا گیا، تاہم تل ابیب کے اس اقدام کو بین الاقوامی برادری نے کبھی قانونی تسلیم نہیں کیا۔